اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،امریکی جریدے فارین پالیسی نے اپنی تازہ تجزیاتی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ ایک "لامتناہی جنگ" کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے اور واشنگٹن کو اس صورتحال سے نکلنے کے لیے زمینی حقائق تسلیم کرنا ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق ایران اس جنگ کو اپنی بقا اور قومی سلامتی سے جڑا معاملہ سمجھتا ہے، اسی لیے تہران طویل مدت تک اس کے اخراجات اور دباؤ برداشت کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس کے برعکس امریکہ اپنی ابتدائی توقعات کے باوجود وہ تیز اور فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں کر سکا جس کی امید کی جا رہی تھی۔
فارین پالیسی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑھتی قیمتیں، امریکہ کے اندر معاشی دباؤ، کانگریس میں مخالفت اور عوامی حمایت میں کمی نے ٹرمپ انتظامیہ کو سنگین چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔
تجزیے میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی سیاستدان اب تک زمینی حقیقتوں کو تسلیم کرنے سے گریز کر رہے ہیں، جن میں ایران کی مزاحمتی صلاحیت اور امریکی فوجی طاقت کی محدودیاں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جب تک واشنگٹن زیادہ حقیقت پسندانہ پالیسی اختیار نہیں کرتا اور ایران پر "زیادہ سے زیادہ دباؤ" اور نظام کی تبدیلی کی حکمتِ عملی پر اصرار جاری رکھتا ہے، تب تک اس جنگ سے نکلنا نہایت مشکل اور مہنگا ثابت ہوگا۔
فارین پالیسی نے بالواسطہ طور پر اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ ایران کی مزاحمت نے ٹرمپ حکومت کی جنگی پالیسیوں کو سخت چیلنج کیا ہے اور امریکہ کو ایسی صورتحال میں دھکیل دیا ہے جہاں نہ آسان فتح ممکن ہے اور نہ ہی بھاری قیمت ادا کیے بغیر بحران سے نکلنا۔
آپ کا تبصرہ