سرکاری استقبال میں دو نوں ممالک کے قومی ترانے پیش کئے گئے صدر احمدی نژاد اس دورے میں افغانستان کے ساتھ کئی معاہدوں پر دستخط کئے اور دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کو فروغ دینے پر بات چيت کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر محمود احمدي نژاد، تھوڑی دیر قبل کابل سے تہران واپس لوٹے ہیں۔ احمدی نژاد نے اس سے قبل علماء اور جہادی جماعتوں کے راہنماؤں کی موجودگی میں دوپہر کی ضیافت میں شرکت کی. اور اس سے قبل افغان سینٹ کے چیئرمین، پارلیمان کے سربراہ، عدلیہ کے سربراه اور جہادی جماعتوں کے سربراہوں سے بھی ملاقات کی تھی۔ اس دورے میں ایران کے وزیر مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے افغانستان کے ٹیلی مواصلاتی مرکز کا افتتاح کیا جبکہ صدر کے مشیر اسفندیار رحیم مشائی نے افغانستان میں ایرانین افیئرز کے دفتر کا افتتاح کیا۔
پریس کانفرنس :
اسلامی جمہوریہ ایران کےصدرڈاکٹراحمدی نژاد نےکہا ہے کہ افغانستان میں اغیار کی فوجی موجودگي اس ملک کے مسائل کاحل نہيں ہے۔
صدراحمدی نژاد نے آج کابل میں افغان صدرحامدکرزئی کےساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہاکہ افغانستان کےمسائل کاحل پیش کرنا اس ملک کی قانونی حکومت کو مضبوط بنانے اور اس کی حمایت کرنے کے مترادف ہے۔
انھوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کی یقینی پالیسی افغان حکومت، اور اس ملک کی سالمیت اور تعمیرنو ميں مدد دینا ہے۔
ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا کہ بعض قوتیں علاقے کے ممالک کو پیچھے رکھنے کی کوشش کررہی ہيں اور افغان عوام گذشتہ تیس برسوں سے مصائب و مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کے بہت سے مسائل کا اصل سبب اغیار کی موجودگی ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ ہرسال سوارب ڈالر افغانستان میں غیرملکی فوجوں پر خرچ ہو رہا ہے جبکہ افغان حکومت کا کل بجٹ دو ارب ڈالر سے بھی کم ہے۔
صدر احمدی نژاد نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ بہتر نہيں کہ فوجی اخراجات افغان حکومت کے بجٹ میں ہی افغان عوام کی فلاح کے لئے خرچ ہو؟
انھوں نے کہاکہ یہ فوجی اخراجات نہ صرف افغانستان کے عوام کی اور سیکورٹی کی صورت حال کو بہتر بنانے ميں موثر نہيں ہیں بلکہ اس سے جو تباہیاں ہوتی ہيں وہ اس ملک کےعوام کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
اس موقع پر افغان صدرحامد کرزئی نے کہا کہ کابل میں ایران کے صدر کی موجودگی ہمارے لئے بہت ہی فخر کی بات ہے۔
کرزئی نے کہاکہ ایران کے عوام کے ساتھ افغان عوام کے بے شمار مذہبی تاریخی اور ثقافتی اشتراکات ہيں اور افغانستان کی تعمیرنو میں ایران کا کردار کسی سے پوشیدہ نہيں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایران افغان عوام کا بہت ہی ہمدرد ملک ہے۔
حامد کرزئی نے ساتھ ہی افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے پر ایران کے عوام اور حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
اس سے پہلے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرڈاکٹراحمدی نژاد نے کابل روانہ ہونے سے پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ علاقے کی نئی صورت حال میں، ایران افغانستان کےمسائل کو حل کرنے اور اس ملک سے قابضوں کے باہر نکلنے کےلئے ایک نئی اسٹریٹجی رکھتا ہے انھوں نے کہاکہ ایران اور افغانستان دو پڑوسی اور برادر ملک ہیں جن کے تعلقات ثقافتی اور تاریخی لحاظ سے نہایت گہرے اور تاریخی ہیں۔
صدراحمدی نژاد نے کہاکہ افغانستان کےمشکل دور میں ملت ایران ہمیشہ افغان عوام کے ساتھ رہی ہے۔ .........
/110