بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ حالیہ برسوں میں، خاندانوں اور اسپائنل مسکولر ایٹروفی (Spinal Muscular Atrophy [SMA]) کے مریضوں کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا تھا۔ یہ بیماری پیدائش سے ہی افراد کی حرکتی صلاحیت کو محدود کر دیتی ہے اور روزمرہ کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیتی ہے۔ اس سے قبل، ملک میں بیماری کے کا پھیلاؤ روکنے یا علامات کو مؤثر طریقے سے بہتر بنانے کی کوئی صورت موجود نہیں تھی، اور بہت سے خاندانوں کی امید صرف محدود اور درآمدی ادویات پر تھی۔
لیکن اب ایرانی ٹیکنشینوں نے ایک بڑا قدم اٹھانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے: ملک کے اندر "ایورلیجن Everligen" دوا کی تیاری۔ یہ دوا سوئٹزرلینڈ کے بعد اپنی نوعیت کی دنیا کی دوسری پیشرفت ہے، اور درست انجینئرنگ اور وسیع تحقیق کے ذریعے، یہ بیماری کا پھیلاؤ روکنے اور مریضوں کے عضلاتی کام میں نسبتاً بہتری لانے میں کامیاب رہی ہے۔
سادہ الفاظ میں، اورلیجن ایک ادویاتی شربت ہے جس کی ماہانہ چند شیشیاں ایس ایم اے میں مبتلا بچوں اور بڑوں کی حرکت کی صلاحیت میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ یہ دوا نہ صرف مریضوں کی زندگی بدل دیتی ہے بلکہ خاندانوں کو امید اور سکون بھی لوٹا دیتی ہے، اس کی حقیقی قدر، ہر قیمت اور عدد سے بالاتر ہے۔
ایران؛ دنیا میں ایس ایم اے دوا تیار کرنے والا دوسرا ملک
اس ایرانی کمپنی نے اپنی پہلی مصنوع کے طور پر ایورلیجن دوا مارکیٹ میں پیش کرلی ہے۔ یہ دوا ڈیڑھ سال کی تحقیق اور مطالعے کے بعد، سنہ 1403 ہجری شمسی (دو سال قبل) سے مارکیٹ میں آئی ہے، اور دو بار علم پر مبنی سرٹیفکیشن (Knowledge Based Certification) حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ کچھ عرصے سے یہ دوا مارکیٹ میں فراہم کی جا رہی ہے۔
ترکیب سازی (Synthesis) کے ڈائریکٹر اور علم پر مبنی کمپنی کے پروڈکشن مینیجر خشایار ہماوندی نے فارس نیوز ایجنسی کو بتایا: "یہ دوا اسپائنل مسکولر ایٹروفی (ایس ایم اے) کے علاج کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ یہ بیماری دراصل ریڑھ کی ہڈی اور پٹھوں کی کمزوری ہے۔ اس بیماری میں مبتلا مریض پیدائشی جینیاتی مسائل کی وجہ سے عام طور پر حرکت کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ اس دوا کے استعمال کے بعد، بیماری کا پھیلاؤ رک جاتا ہے اور مریض نسبتاً بہتری حاصل کر سکتے ہیں۔"
یہ دوا سوئٹزرلینڈ کے بعد ملک میں دوسرے ملک کے طور پر، ایران میں پہلی بار تیار کی جا رہی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، سوئٹزرلینڈ نے پہلی بار اسے مارکیٹ میں پیش کیا، اور اس کمپنی نے تقریباً 4 سال قبل، اگست 2022 میں، محدود تعداد میں یہ دوا ایران میں درآمد کی۔
اس کے بعد، تقریباً ایک ماہ تک مطالعہ، تحقیق، اور ترکیب سازی کے مرحلہ وار عمل اور متعلقہ ٹیسٹ ہوتے رہے، یہاں تک کہ دو سال بعد، اس دوا کو پیداواری اجازت نامہ ملا۔
ایس ایم اے میں مبتلا ایک سالہ بچی، اس دوا سے اپنے ہاتھ پاؤں ہلانے لگی
ہماوندی اس دوا کی پیداواری صلاحیت کے بارے میں بتاتے ہیں: "ہم ملک کے تمام مریضوں کی ماہانہ بنیاد پر حمایت کرتے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ ہم ماہانہ ان عزیزوں کی ضرورت پوری طرح پوری کر سکیں۔
یہ دوا ملک میں درآمد نہیں ہوتی، اور ایران کو درپیش پابندیوں اور رکاوٹوں کے پیش نظر، ہم ان تمام رکاوٹوں کو مرحلہ وار عبور کرنے میں کامیاب ہوئے اور اپنے آپ کو ایک معروف کمپنی اور ٹیم کے طور پر متعارف کرایا۔"
ایورلیجن شربت کی ایک شیشی کی غیر ملکی قیمت تقریباً 7,900 پاؤنڈ ہے، جب کہ ایران میں اس کی قیمت تقریباً 100 پاؤنڈ ہے۔ ہر مریض ماہانہ تین شیشیاں استعمال کرتا ہے۔
ہماوندی ان مریضوں کی ایک مثال دیتے ہیں جنہوں نے یہ دوا حاصل کی ہے: "ایک، ایک سالہ بچی جس نے کچھ عرصہ دوا استعمال کرنے کے بعد اپنے ہاتھ پاؤں ہلانے شروع کر دیئے، یہ پیشرفت واقعی انمول ہے اور اس کی قدر کسی عدد یا رقم سے نہیں جانچی جا سکتی۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

آپ کا تبصرہ