بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایران نے کبھی بھی روس یوکرین جنگ میں باضابطہ طور پر روسی کا ساتھ دینے کا اعلان نہیں کیا تھا اور دو ملکوں کے درمیان جنگ بندی اور قیام امن کی حمایت کرتا رہا تھا یہاں تک کے روس کے ہاتھوں مقبوضہ یوکرینی علاقوں کو یوکرین واپس کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
ٹرمپ حکومت نے 2025 میں یوکرین کو ایک ڈالر کے برابر امداد بھی فراہم نہیں کی اور یوکرینی حکومت کو اربوں ڈالر کے یوکرینی معدنی مواد کی امریکہ منتقلی کے معاہدوں پر دستخط کرنے پر مجبورکرنے کے باوجود اسے روس کے خلاف جنگ میں تنہا چھوڑ دیا لیکن یوکرین کے صہیونی-یہودی صدر زیلنسکی نے ایران کے خلاف امریکی - صہیونی جنگ کے جنگ کے ساتھ ہی، امریکہ اور خلیج فارس عرب ریاستوں پر مسلط امریکہ کے کٹھ پتلی حکمرانوں کے کہنے پر ایران کے خلاف جنگ میں کود پڑا اور ایرانی ڈرونز روکنے کے لئے اپنے کچھ افسران اور بقول اس کے 'ماہرین' کو ناعاقبت اندیش نہیانی ریاست 'متحدہ عرب امارات' روانہ کیا۔ شاید زلینسکی کو امید تھی کہ اس جنگ کے بعد پٹا ہؤا امریکہ اس کی مدد کو آئے گا!
بہرحال ان یوکرینی افراد کو ایک اڈہ اور ایک بلڈنگ دبئی میں دی گئی جو ایک ایرانی میزائل-ڈرون جملے میں زمین بوس ہوئی اور ڈرونز کا ایک ہینگر بھی تباہ ہوگیا۔ کہا گیا کہ 18 یوکرینی اس حملے میں ہلاک ہوگئے جن کی لاشیں بظآہر نہیں ملیں۔
باقیماندہ یوکرینیوں سے کہا گیا کہ اب کچھ ایئر ڈیفنس میں شرکت کرو اور یہ میزائل جو آ رہے ہیں انہیں مار گراؤ۔
انہوں نے ایئر ڈیفنس میزائل فائر کئے لیکن وہ سیدھے جاکر عربوں کی شیشے کی بنی ہوئی بلند و بالا عمارتوں کو لگے اور معلوم نہیں ہؤا کہ عمارتوں کو کتنا نقصان پہنچا اور کتنے امارات یوکرینی میزائلوں کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے۔
ایرانی افواج نے بعدازاں یوکرینی ایئر ڈیفنس سسٹمز کو بھی تھاڈ اور پیٹریاٹ سسٹمز کی طرح ڈرونز حملے کرکے نابود کر دیا۔
آج خبریں آ رہی ہیں کہ گوکہ عرب حکمران اپنے آمریکی - اسرائیلی آقاؤں کو اپنی سرزمینوں سے نکال باہر کرنے سے عاجز ہیں، لیکن انہوں نے یوکرینیوں کو دھکے مار کر نکال باہر کیا ہے: دیکھئے:
عربوں نے یوکرینی ایئرڈیفنس کے ماہرین کو نکال باہر کیا
رشیا ٹوڈے نے رپورٹ دی ہے کہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں نے ایئرڈیفنس سسٹمز کے یوکرینی ماہرین کو ہدایت کی ہے کہ ان ممالک کو چھوڑ کر چلے جائیں، کیونکہ وہ پانچوں مراکز، جن کا انہیں دفاع کرنا تھا، تباہ ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یوکرینی ایئرڈیفنس کے میزائل ـ غلطی سے حتیٰ ـ متحدہ عرب امارات کی بعض اونچی عمارتوں کو لگے ہیں۔
بہرحال، اب اگر ایران روس کو اس کے مطلوبہ میزائل اور ڈرون فراہم کرے تو کس کو اعتراض ہو سکتا ہے اور یوکرینی مسخرہ کیونکر ایران کو قصوروار ٹہرا سکتا ہے؟ اور اگر ایرانی ہتھیار روس پہنچیں تو یوکرین جنگ کی صورت حال کیا سے کیا ہو سکتی ہے!
ـــــــــــــــــــــــــ
110
آپ کا تبصرہ