اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی کی جانب سے جانب جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقدس مقامات کو یہودی ورثہ قرار دینے کا فیصلہ اور150 مقامات کی فہرست کا اجرا براہ راست صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفتر سے کیا گیا ہے، جسے وزیراعظم نیتن یاھو کی منظوری حاصل ہے۔
بیان میں فلسطین میں مسلمانوں اور مسیحی مقدسات اور تاریخی مقامات کو یہودی تاریخی وراثت قرار دینے کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے اسے مسلمانوں اور عیسآئیوں کے مقدس مقامات پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ اور کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے ایک سو پچاس مقدس مقامات کو یہوی تاریخی ورثہ قرار دینے کی کوششیں فلسطین میں یہودیت کو فروغ دینا اور یہاں سےمسلمانوں اور عیسیائیوں کے وجود کو ختم کرنا ہے۔
کمیٹی نے اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری اس فہرست سے متعلق کہا ہے کہ چونکہ فلسطین میں سترویں صدی عیسوی تک یہودیوں کے سوائے چند ایک عبادت گاہوں کے کسی مذہبی مقام کے وجود کے آثار نہیں ملتے، لہٰذا فلسطین میں یہودی اپنا مذہبی وجود تاریخی طور پر ثابت کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس سلسلے میں اسرائیل اس فہرست کو تاریخی مقامات کی ملکیت کے حوالے سے آئندہ اکتوبر میں ہونے والے یونیسکو کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا اور اس سے اس امر کی منظوری حاصل کی جائے گی کی فہرست میں شامل تمام مقدس مقام فلسطین میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے نہیں بلکہ یہودیوں کی تاریخی ملکیت ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطین میں مذہبی مقامات کو یہودی تاریخ کا ورثہ قرار دینے کے مقاصد محض سیاسی ہیں، جن کا اصل مقصد فلسطین میں اسرائیلی تسلط کو مضبوط کرنا ہے۔
کمیٹی کی جانب سے یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم نے الخلیل میں مسجد ابراھیمی اور بیت لحم میں مسجد بلال بن رباح کو یہودی ورثہ قرار دیتے ہوئے ان کی تعمیر و مرمت کے لیے کئی ہزار ڈالر کا بجٹ فراہم کرنےکا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد فلسطین اور عرب ممالک میں اسرائیل کے اس اقدام کے خلاف شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے
152/