اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات وہ ہوتے ہیں جب دو ممالک کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے باضابطہ گفتگو کریں، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایسی کوئی صورتحال موجود نہیں۔ امریکہ کی طرف سے کچھ پیغامات آتے رہتے ہیں، جن میں بعض براہ راست اور بعض خطے میں ایران کے دوست ممالک کے ذریعے پہنچائے جاتے ہیں، اور ایران ضرورت کے مطابق ان کا جواب دیتا ہے۔
الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اب تک کوئی باضابطہ مذاکرات شروع نہیں ہوئے اور اس حوالے سے میڈیا یا سیاسی حلقوں میں کیے جانے والے دعوے درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات ایران کے پیغامات میں انتباہ شامل ہوتا ہے اور کبھی دوسری طرف سے کوئی نکتہ سامنے آتا ہے، لیکن یہ صرف پیغامات کا تبادلہ ہے، مذاکرات نہیں۔
عراقچی نے کہا کہ امریکی نمائندہ وٹکاف پہلے بھی انہیں پیغام بھیجتا تھا اور اب بھی براہ راست پیغامات بھیج رہا ہے، تاہم یہ عمل بھی صرف پیغام رسانی کے دائرے میں آتا ہے، اسے مذاکرات نہیں کہا جا سکتا۔
انٹرویو کے دوران ایران کے اندر کچھ حلقوں کے امریکہ سے رابطے کے بارے میں سوال پر عراقچی نے کہا کہ تمام پیغامات یا رابطے وزارت خارجہ کے ذریعے یا وزارت خارجہ کی اطلاع کے ساتھ ہوتے ہیں اور سب کچھ ایک طے شدہ نظام کے تحت انجام پاتا ہے۔ سکیورٹی اداروں کے رابطے بھی ہوتے ہیں، لیکن وہ بھی ریاستی نظام کے اندر رہتے ہوئے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی نگرانی میں ہوتے ہیں، اس لیے فیصلہ سازی میں کوئی تقسیم یا اختلاف نہیں۔
عراقچی نے بتایا کہ ایران نے اب تک امریکہ کے پیش کردہ 15 نکاتی منصوبے پر کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی کسی قسم کی شرط امریکہ کے سامنے رکھی گئی ہے۔ پانچ نکات والا معاملہ کسی میڈیا ادارے کی قیاس آرائی تھی، حقیقت میں ایران نے کوئی رسمی جواب نہیں دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران جنگ بندی قبول نہیں کرے گا بلکہ ایران کا مطالبہ ہے کہ جنگ مکمل طور پر ختم ہو اور ایسے ضمانتی اقدامات کیے جائیں جن سے یہ جنگ دوبارہ نہ دہرائی جائے۔ ایرانی عوام کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ بھی چاہیے۔
عراقچی نے زمینی حملے کے امکان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اگر زمینی جنگ کی طرف گیا تو اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ایران نے پہلے بھی بھرپور دفاع کیا ہے اور دشمن کے سازوسامان اور تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا، جس کی مثال آواکس اور ایندھن بردار طیاروں کے ساتھ ہونے والا واقعہ ہے۔
عراقچی کے مطابق ایران زمینی جنگ میں زیادہ تجربہ کار اور زیادہ تیار ہے اور ہر زمینی خطرے کا جواب دینے کے لیے مکمل آمادگی رکھتا ہے۔
عراقچی نے کہا کہ ایران کے نزدیک جنگ کے خاتمے کا مطلب صرف ایران میں جنگ رکنا نہیں بلکہ اس میں لبنان، عراق اور یمن بھی شامل ہیں۔ ایران خطے میں مجموعی امن کا خواہاں ہے، اور اس وقت مذاکرات کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ایک سوال کے جواب میں عراقچی نے کہا کہ اگر جنگ طویل ہوئی تو ایران اس کے لیے مکمل تیار ہے۔
عراقچی نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اپنی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی، کیونکہ ایرانی قوم کو دھمکی اور دباؤ سے نہیں جھکایا جاسکتا۔ ایران ایک بڑی، خودمختار اور تہذیبی قوم ہے، جس سے احترام کے ساتھ بات کرنا ضروری ہے، ورنہ میدان میں جواب دیا جائے گا۔
عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی پانیوں میں نہیں بلکہ ایران اور عمان کے اندرونی پانیوں میں واقع ہے، اس لیے یہاں آمدورفت کے حوالے سے ایران اور عمان کے مفادات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ اس وقت آبنائے ہرمز کھلا ہے لیکن ان ممالک کے جہازوں کے لیے بند ہے جو ایران کے ساتھ جنگ میں شریک ہیں۔ جنگ کے دوران ایران دشمن کو یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ ایرانی پانیوں سے فائدہ اٹھائے۔
آپ کا تبصرہ