17 اپریل 2010 - 19:30

اے محبان حسین اے عاشقان اہل بیت، اے حبداران اولاد و اصحاب حسین اے سوگواران کاروان عشق، سالار عشق اور سرور و سردار شہادت کے اربعین کے سلسلے میں ہماری تعزیت قبول فرمائیں۔

 زیارت اربعین کیوں پڑھیں؟

سیدالشہداء علیہ السلام کے اربعین کی تکریم و تعظیم اور اس روز عزاداری و سوگواری کی اہم ترین دلیل امام حسن عسکری علیہ السلام سے منقولہ روایت ہے جہان آپ (ع) نے فرمایا ہے: مؤمن کی نشانیان پانچ ہیں جن میں ایک زیارت اربعین کی تلاوت ہے۔ علاوہ ازیں، امام صادق(علیہ السلام) نے زیارت اربعین صفوان بن مہران جمّال کو سکهائی ہے جس میں اربعین کی تکریم و تعظیم پر تأکید فرمائی ہے۔

( شیخ طوسی، مصباح المتہجد، ص 788- 789)

قدیم شیعہ منابع کے مطابق اربعین کی اہمیت دو وجوہات کی بنا پر قابل توجہ ہے:

1۔ اس روز فرزندان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شام میں یزید بن معاویہ بن ابی سفیان کی اسارت سے آزاد ہوکر مدینہ کی طرف لوٹے تھے۔

2.   اسی روز معروف و مشہور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے مشہور و معروف صحابی حضرت جابر بن عبداللہ انصاری (رض) نے کربلا میں حاضر ہوکر قبر سیدالشہداء علیہ السلام کی زیارت کی تھی۔

شیخ مفید، شیخ طوسی اور علامہ حلّی (قدس سرہم) اس سلسلے میں رقمطراز ہیں:

20 صفر کا دن وہ دن ہے کہ حرم امام حسین علیہ السلام شام سے مدینہ منورہ کی طرف لوٹا؛ اور اسی روز رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے صحابی حضرت جابر بن عبداللہ انصاری (رض) سیدالشہداء علیہ السلام کی زیارت کی نیت سے مدینہ سے کربلائے معلی مشرف ہوئے اور جابر پہلی شخصیت ہے جنہوں نے قبر امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی۔

(رضی الدین علی بن یوسف مطہر حلی، العدد القویہ، ص 219۔)

اربعین کے بارے میں علماء کی رائے

علمای اعلام کا اتفاق ہے کہ اربعین حسینی 20 صفر کا دن ہے سیدالشہداء علیہ السلام کی شہادت کا چالیسواں دن ہے۔

شیخ طوسی ابوجعفر محمد بن حسن (متوفی 460 ہجری) کتاب «التہذیب» کی دوسری جلد کے صفحہ 17 پر زیارت حسین علیہ السلام کی فضیلت کے باب میں لکھتے ہیں:

زیارت کے بارے میں وارد ہونے والی روایتیں خاص اوقات کے لئے مخصوص ہیں اور روز عاشورا اور 20 صفر ان ہی اوقات میں سے ہیں۔

عطیہ کوفی اور جابر بن عبداللہ انصاری قبر امام حسین علیہ السلام کے سب سے پہلے زائرین

«مصباح المتہجد» صفحہ‏ 551 پر 20 صفر پر امام حسین علیہ السلام کی زیارت اربعین کے بارے میں مرقوم ہے: یہ وہ دن ہے جب جابر بن عبداللہ انصاری سیدالشہداء علیہ السلام کی زیارت کے لئے مشرق ہوئے۔

اور سید ابن‏طاؤس نے «اقبال الاعمال» میں، علامہ حلی کتاب «المنتہی» میں، علامہ مجلسی نے کتاب «بحارالانوار» کے باب "مزار" میں، شیخ یوسف بحرانی نے کتاب «حدائق»، حاجی نوری نے کتاب «تحیة الزائر» میں اور شیخ عباس قمی نے اپنی کتاب مفاتیح میں ـ سب نے ـ شیخ طوسی کے حوالے سے نقل کیا ہے۔

اربعين اور زيارت امام حسين عليہ‏السلام کا دو نامون کے ساتھ قریبی تعلق ہے۔ ان میں سے ایک نام «عطية بن عوف کوفي» کا ہے جو امام حسین علیہ السلام کے پہلے چالیسویں پر کربلا مشرف ہوئے اور امام علیہ السلام کے مرقد منور کی زیارت سے مستفیض ہوئے۔

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے عطیہ کوفہ کے رہنے والے تھے اور حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے خلافت کے دنوں میں پیدا ہوئے تھے۔ عطیہ سے منقول ہے کہ: جب میں اپنی والدہ سے متولد ہوا میرے والد مجهے کوفہ میں حضرت امیرالمؤمنین کی زیارت کے لئے لے گئے۔ میرے والد نے عرض کیا: یہ لڑکا نومولود ہے اس کا نام کیا رکھوں؟ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: «ہذا عَطيّة اللّہ‏؛ یہ اللہ کا عطیہ ہے؛ چنانچہ میرا نام عطیہ رکھا گیا۔

عطیہ نے محمد بن اشعث کے ہمراہ مدینہ کے ستمگر حاکم حجاج بن یوسف کے خلاف قیام کیا اور قیام میں ناکامی کے بعد فارس کی طرف چلے گئے۔ وہ شیعہ اور سنی علماء کے نزدیک محل وثوق ہیں اور دونوں مکاتب کے علماء نے ان سے حدیث نقل کی ہے۔ عطیہ نے ہے حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کا خطبہ عبداللہ بن حسن سے نقل کیا ہے۔

جس وقت امام حسین علیہ السلام کا سر مبارک نیزے پر اور اہل بیت علیہم السلام کو اسیر کرکے شام لے جایا گیا؛ اسی وقت سے کربلا میں حاضری کا شوق اور امام حسین علیہ السلام کی قبر مطہر کی زیارت کا عشق دسترس سے بالکل باہر سمجها جاتا تها؛ کیونکہ اموی ستم کی حاکمیت نے عالم اسلام کے سر پر ایسا دبیز سیاہ پردہ بچها رکھا تها کہ کسی کو یقین نہیں آسکتا تها کہ ظلم کا یہ پردہ آخر کا پهاڑا جاسکے گا اور کوئی نفاق کے اس پردے سے گذر کر سیدالشہداء علیہ السلام کی زیارت کے لئے کربلا میں حاضری دے سکے گا۔ مگر امام حسین علیہ السلام کی محبت کی آگ اس طرح سے ان کے عاشقوں کے قلب میں روشن تھی کہ اموی اور عباسی طاغوتوں کی پوری طاقت بھی اسی گل نہ کرسکی۔

جی ہاں! یہی محبت ہی تو تھی جو عاشق اور دلباختہ انسانوں کو کربلا تک لی گئی اور امام شہداء علیہ السلام کی شہادت کے چالیس روز نہیں گذرے تھے کہ عشق حسینی جابر بن عبداللہ انصاری کو کربلا کی طرف لے گیا۔

جابر جب کربلا پہنچے تو سب سے پہلے دریائے فرات کے کنارے چلے گئے اور غسل کیا اور پاک و مطہر ہوکر ابوعبداللہ الحسین علیہ السلام کی قبر منور کی طرف روانہ ہوئے اور جب پہنچے تو اپنا ہاتھ قبر شریف پر رکھا اور اچانک اپنے وجود کی اتہاہ سے چِلّائے اور بے ہوش ہوگئے اور جب ہوش میں آئے تو تین بار کہا: يا حسين! یاحسین! یا حسین اور اس کے بعد زیارت پڑھنا شروع کی۔

اربعین کے روز زیارت امام حسین علیہ السلام پر تأکید