اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، لبنان میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں میں شدت آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں مشرقی اور جنوبی علاقوں میں کم از کم 10 افراد جاں بحق اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے۔
اطلاعات کے مطابق صہیونی افواج نے بقاع کے علاقے اور صیدا میں واقع فلسطینی پناہ گزین کیمپ عین الحلوہ کو نشانہ بنایا۔ حماس نے بیان جاری کرتے ہوئے حملے کی مذمت کی اور کہا کہ جس مقام کو نشانہ بنایا گیا وہ مشترکہ سکیورٹی فورس کا مرکز تھا، نہ کہ حماس کا دفتر۔
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ حملہ حماس کے عناصر کے خلاف کیا گیا، تاہم لبنانی ذرائع کا کہنا ہے کہ نشانہ بننے والی عمارت مقامی سکیورٹی انتظامات کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔
دوسری جانب حزبالله سے وابستہ حلقوں اور لبنان۔فلسطین ڈائیلاگ کمیٹی نے ان حملوں کو لبنان کی خودمختاری اور نومبر 2024 کی جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بقاع کے مختلف مقامات پر رہائشی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے شہری ہلاکتیں ہوئیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب لبنانی حکومت اسلحے کے معاملے پر داخلی بحث میں مصروف ہے اور امریکہ کی پالیسیوں پر انحصار کر رہی ہے، جبکہ بعض حلقے ان کارروائیوں کو واشنگٹن کی حمایت سے جوڑ رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ