اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امام خمینی کے پوتے حجۃ الاسلام والمسلمین سید حسن خمینی نے کہا ہے کہ اسلامی انقلاب نے ولیِ خدا سے عقیدت اور ایک صالح انسان کی ذمہ داری کے درمیان گہرے تعلق کو عملی شکل دی۔ ان کے بقول یہ انقلاب اس حقیقت کا مظہر ہے کہ ’’حرکت تمہاری طرف سے، برکت خدا کی طرف سے۔
حرم امام خمینیؒ کے متولی سید حسن خمینی نے اہلِ بیت عالمی اسمبلی کے کارکنان کی جانب سے امام خمینیؒ کے افکار سے تجدیدِ عہد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ مکتب میں ’’انتظار‘‘ کے مفہوم پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مکتبِ اہلِ بیتؑ کی نمایاں خصوصیت زندہ امام پر ایمان ہے، جو اگرچہ پردۂ غیبت میں ہیں مگر معاشرے میں حاضر و ناظر ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اہلِ سنت بھی ایک منجی کے ظہور کے منتظر ہیں، تاہم شیعہ عقیدہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ وہ ایک ایسے امام پر ایمان رکھتا ہے جو اس وقت بھی زندہ ہیں اور امور کی نگرانی کر رہے ہیں، اگرچہ عوامی نگاہوں سے اوجھل ہیں۔
سید حسن خمینی نے کہا کہ شیعہ تعلیمات میں انتظار کا مطلب محض خاموش بیٹھنا یا دعا پر اکتفا کرنا نہیں، بلکہ ذمہ داری قبول کرنا، مدد طلب کرنا اور بامقصد عمل کرنا بھی اس کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق اہلِ بیتؑ اللہ کے اذن سے شفاعت کا مقام رکھتے ہیں اور مؤمنین دعاؤں میں انہیں وسیلہ بنا کر خدا سے قرب حاصل کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امام مہدیؑ پر ایمان انسان کو ایک طرف حوصلہ دیتا ہے کہ وہ خود کو تنہا نہ سمجھے اور ایک محافظ کی پشت پناہی محسوس کرے، جبکہ دوسری طرف اس پر اخلاقی و عملی ذمہ داریاں بھی عائد کرتا ہے۔ ان کے بقول جو شخص خود اصلاح کی کوشش نہ کرے، وہ حقیقی منتظر نہیں کہلا سکتا۔
سید حسن خمینی نے کہا کہ امام خمینیؒ اور اسلامی انقلاب کی بڑی کامیابی یہ تھی کہ انہوں نے انتظار کے تصور کو گوشہ نشینی اور غیر عملی امید سے نکال کر عملی جدوجہد اور ذمہ دارانہ کردار میں بدل دیا۔ انہوں نے کہا کہ نیکی کا مفہوم فرائض کی ادائیگی کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، اور جوں جوں ذمہ داری بڑھتی ہے، انسان کی آزادی اور اختیار بھی وسعت اختیار کرتے ہیں، مگر ساتھ ہی فرض کا بوجھ بھی بڑھ جاتا ہے۔
انہوں نے قرآن کے اجتماعی نقطۂ نظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن اجتماعی حرکت کی ترغیب دیتا ہے کیونکہ اجتماعی عمل کی تاثیر زیادہ ہوتی ہے۔ انسانی اجتماع میں تعاون کی نوعیت نتائج کو غیر معمولی طور پر بڑھا یا کم کر سکتی ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر سید حسن خمینی نے کہا کہ امام خمینیؒ کے وصال کے بعد بھی یہ راستہ جاری ہے اور اسلامی انقلاب کی قیادت کی رہنمائی میں ایرانی قوم نے اسی فکر کے ذریعے مختلف مشکلات کا سامنا کیا اور انہیں عبور کیا۔
آپ کا تبصرہ