اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے قومی ادارہ برائے سول ڈیفنس کے سربراہ غلامرضا جلالی، نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران دشمن کی جانب سے تیار کیے جانے والے ہر قسم کے خطرناک منظرناموں کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور امریکہ و اسرائیل کی دھمکیوں کو مؤثر بازدارندگی کی سطح تک پہنچا دیا گیا ہے۔
انہوں نے عسلویہ میں کیمیائی مشق ’’شہید ربانی‘‘ کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں ایران کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا ہے، تاہم ملک کی دفاعی حکمت عملی اس انداز میں ترتیب دی گئی ہے کہ دشمن کسی بھی اقدام سے قبل اس کی قیمت اور نتائج کا سنجیدگی سے جائزہ لینے پر مجبور ہے۔ ان کے بقول جب دشمن کسی ملک کی دفاعی صلاحیت کو تسلیم کر لے اور اپنی منصوبہ بندی اسی بنیاد پر کرے تو اسے معتبر خطرہ کہا جاتا ہے، اور آج ایران اس مرحلے تک پہنچ چکا ہے۔
سردار جلالی نے کہا کہ دشمن کی حکمت عملی تین پہلوؤں پر مشتمل ہو سکتی ہے جن میں میڈیا اور نفسیاتی دباؤ کے ذریعے خوف کی فضا قائم کرنا، محدود اور کنٹرول شدہ اقدامات کرنا اور خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ بھڑکانے کی کوشش شامل ہے، تاہم ایران ان تمام امکانات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی اتحاد، عوامی یکجہتی اور دفاعی طاقت ملک کی اصل قوت ہیں۔
انہوں نے خطرناک صنعتوں خصوصاً کیمیائی اور جوہری شعبوں میں سخت حفاظتی ضوابط کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ان شعبوں میں حفاظتی نظم و ضبط نہایت سخت ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ممکنہ حادثات سے نمٹنے کے لیے سائنسی بنیادوں پر تیاری کی جاتی ہے اور باقاعدہ مشقوں کے ذریعے اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر بنایا جاتا ہے۔
سردار جلالی نے کہا کہ عسلویہ جیسے صنعتی مرکز میں منعقد ہونے والی مشقیں کمانڈ، کنٹرول اور بحران سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں اور ایران اپنی دفاعی تیاری اور قومی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرتا رہے گا۔
آپ کا تبصرہ