اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں جاری قتل عام کو فوری طور پر روکا جائے۔
بن فرحان نے مزید کہا کہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے اتحاد و سالمیت کو برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے فلسطینی قیادت کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی و سیاسی وحدت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
دوسری جانب صیہونی حکومت کے چیف آف جنرل سٹاف نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فوج غزہ کے خلاف جنگ کے اپنے اہداف یعنی غزہ کو مکمل طور پر تخفیف اسلحہ سے مشروط کرنے اور حماس کو ختم کرنے سے کبھی دستبردار نہیں ہوگی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو مقبوضہ علاقے کی فوج جارحانہ کارروائیوں کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ایک اور پیشرفت میں، اسپین کے وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک غزہ کی پٹی میں قیام امن کے لیے تعینات کی جانے والی فورس میں اپنے فوجی اور افسران شامل کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں کہا کہ اسپین خطے میں استحکام کی کوششوں کا حصہ بننے کے لیے پرعزم ہے۔
نام نہاد غزہ ایگزیکٹو کونسل کے ایک نمائندے نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ثبات فورسز کے تعاون سے فلسطینی فورسز کو غزہ کی پٹی میں تعینات کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قدم علاقائی سلامتی اور طویل المدتی امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔
آپ کا تبصرہ