بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || مجھے نہیں معلوم کہ مغرب کے ممتاز سیاسی دانشور اور رہنما اس بدنما داغ اور اس شرمناک نمائش کا کیا کریں گے۔ وہ لوگ جو برسوں تک تشہیری اور ابلاغی ذرائع استعمال کرتے ہوئے، ہزاروں مواصلاتی سائنسز، ادراکی علوم کے ماہرین کو بھرتی کرکے، اور فن (Art) کا استعمال کرتے ہوئے اربوں ڈالر خرچ کرکے، خود کو انسانی حقوق کے محافظ اور بچوں کے حقوق کے مدافع کے طور پر پیش کرتے رہے؛ اب ان کی رسوائی کا طشت بام سے گر گیا ہے، ان کے چہرے بے نقاب ہوچکے ہیں، پردے ہٹ چکے ہیں [اور ان کی فضیحت طشت از بام ہو گئی ہے]؛ اور دستاویزات منظر عام پر آ گئی ہیں کہ وہ بنیادی طور پر بچوں کے جنسی مجرم ہیں، اور جن کے پیٹ دنیا بھر کے معصوم شیر خوار بچوں اور بچوں کے گوشت سے بھرے ہوئے ہیں: وہ بچوں کا جنسی استحصال کرکے ان کا گوشت تک بھی کھاتے ہیں!
یہ واقعی خوفناک اور ناقابل تصور ہے، لیکن کم از کم اس ایک معاملے کو چھپایا نہیں جا سکتا؛ کیونکہ اس قدر دستاویزات، ثبوت، فلمیں، تصاویر اور چشم دید گواہ موجود ہیں کہ کسی بھی صورت میں اس کا انکار یا اسے معمولی معاملہ قرار دینا ممکن نہیں ہے۔ یہ رویے شیطانی اور غیر انسانی ہیں۔
یعنی یہ سمجھنا اب آسان ہو گیا ہے کہ مغربی تہذیب کے علاقائی ترجمان یعنی "صہیونی غاصب" غزہ میں اس قدر مظالم کے مرتکب کیوں اور کیسے ہوئے، اور یہ بھی کہ مغرب نہ صرف مغربی تہذيب کے علمبردار ممالک کے سیاسی رہنما نہ صرف خاموش رہے، بلکہ انہوں نے اپنے علاقائی کارندوں (صہیونیوں) کی تائید بھی کی اور ان کی مدد بھی کی؛ معلوم ہؤا کہ صہیونیت اور مغربی لبرل جمہوریت ایک سکے کے دو رخ نہیں بلکہ ایک سکے کا ایک ہی رخ ہیں؛ ایپسٹین اس سکے کے اسی ایک رخ کا اظہار ہے۔ کسی نے خوب لکھا کہ "ایپسٹین کیس؛ انسان دشمن مغربی تہذیب کی درندگی کی برہنگی" کا مصداق ہے۔
امید ہے کہ سرزمین مغرب کے عوام، اور ان دیگر قوموں کے عوام جن کے سیاسی رہنما اس "برائی" اور "شیطانی" گروہ میں شامل تھے، ہوش میں آئیں گے، اٹھ کھڑے ہوں گے اور اپنے دامن سے اس تاریخی بدنما داغ کا ازالہ کریں گے۔ اگرچہ ـ نہ صرف ـ یہ جرائم اور رسوائیاں، تہذیب کے دعویدار مغرب کے تاریخ کے صفحے سے کبھی مٹ نہیں سکیں گی؛ بلکہ عین ممکن ہے کہ اس طرح کے مزید کیسز بھی یکے بعد دیگرے منظر عام پر آئیں، تاہم اس کیس کے حوالے سے شائع ہونے والی دستاویزات کے مطابق، امریکی اور یورپی سیاسی رہنما ـ جن کے نام اس کیس میں سمعی اور بصری دستاویزات کے ہمراہ، موجود ہیں، ان میں سے جو لوگ انسانی حقوق کے سب سے نمایاں دعویدار تھے، وہ دوسروں کے مقابلے میں اتنے ہی زیادہ زیادہ سنگین جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ان بچہ خور جنسی مجرمون کی فہرست میں سرفہرست شخص موجودہ امریکی صدر ہیں۔ مغربی ذرائع کے مطابق، ٹرمپ کا نام اس جنسی مجرم اور گندے ارب پتی جیفری ایپسٹین کے کیس میں تقریباً 38 ہزار بار دہرایا گیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ امریکی عوام، امریکی دانشور اور سیاستدار، امریکی فنکار اور فلم ساز، امریکی اسکالرز اور پادری، اس رسوائی کے ساتھ کیسے نمٹیں گے اور اس کے ساتھ کیا برتاؤ کریں گے؟
لیکن توقع یہ ہے کہ اسلامی اور مشرقی ممالک کے دانشور، ممتاز شخصیات اور دانشور، فنکار اور نامی گرامی افراد، اور وہ تمام لوگ جو برسوں تک مغرب کی جھوٹی پروپیگنڈا مہم کے زیر اثر نہ صرف مغرب نواز، بلکہ مغرب پرست بن گئے تھے، اور اپنی قوم اور اسلامی و قومی اقدار کو حقیر سمجھتے تھے، وہ جلد از جلد اپنے ماضی سے دوری اختیار کریں، اور ان جرائم اور آدم خور جنسی مجرموں سے بلند آواز میں بیزاری اور نفرت کا اظہار کریں۔
۔۔۔۔۔
تحریر: یداللہ جوانی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ