پاکستانی وزیر دفاع کا ایران کی خودمختاری کی بھرپور حمایت کا اعلان
اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران کی خودمختاری، آزادی اور سلامتی پاکستان کے لیے اتنی ہی اہم ہے جتنی خود پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی۔ انہوں نے زور دیا کہ اسلام آباد ایران کے ساتھ اپنی کھلی اور دوٹوک یکجہتی جاری رکھے گا۔
نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ ایران پاکستان کا قریبی ہمسایہ اور برادر ملک ہے، اور دونوں ممالک کے تعلقات کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی علاقائی کشیدگی یا ممکنہ جنگ کی صورت میں پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کی قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کو نہایت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات خطے کے امن کے لیے ضروری ہیں۔
دوسری جانب صدر پاکستان آصف علی زرداری نے بھی اسلام آباد میں ایران کے یومِ انقلاب کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خطے میں امن کی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور خبردار کیا کہ کسی بھی جارحانہ اقدام کے منفی نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کا اہم شراکت دار ہے اور دونوں ممالک دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران کی خودمختاری، آزادی اور سلامتی پاکستان کے لیے اتنی ہی اہم ہے جتنی خود پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی۔ انہوں نے زور دیا کہ اسلام آباد ایران کے ساتھ اپنی کھلی اور دوٹوک یکجہتی جاری رکھے گا۔
نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ ایران پاکستان کا قریبی ہمسایہ اور برادر ملک ہے، اور دونوں ممالک کے تعلقات کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی علاقائی کشیدگی یا ممکنہ جنگ کی صورت میں پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کی قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کو نہایت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات خطے کے امن کے لیے ضروری ہیں۔
دوسری جانب صدر پاکستان آصف علی زرداری نے بھی اسلام آباد میں ایران کے یومِ انقلاب کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خطے میں امن کی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور خبردار کیا کہ کسی بھی جارحانہ اقدام کے منفی نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کا اہم شراکت دار ہے اور دونوں ممالک دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔
آپ کا تبصرہ