اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق،قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی دامت برکاتہ سے گلگت بلتستان کے مدبر سیاستدانوں کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے سابق وزیر اعلیٰ حاجی گلبر خان کی سربراہی میں راولپنڈی میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔
وفد میں سابق گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون، سابق وزراء فتح اللہ خان، ظفر شاہ آدم خیل، کیپٹن محمد شفیع، ایمان شاہ اور دیگر اہم سیاسی شخصیات شامل تھیں۔
ملاقات کے موقع پر قائد ملت جعفریہ کے ہمراہ اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی، راجہ محمد اعظم خان، سابق وزیر محمد علی قائد، اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ، سابق چیئرمین قائمہ کمیٹی محمد ایوب وزیری اور اسلامی تحریک پاکستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری حاجی محمد یوسف آخونزادہ بھی موجود تھے۔
اس موقع پر سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان اور ان کے وفد نے قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی دامت برکاتہ کی وطن عزیز پاکستان میں بطور بانی اتحادِ امت گرانقدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ وفد کے اراکین نے گلگت بلتستان میں اتحاد بین المسلمین کی عملی مثال کے طور پر سابق گلبر حکومت کے دور میں امن و امان کے قیام اور ترقیاتی اقدامات کو قائد محترم کی بصیرت افروز قیادت کا ثمر قرار دیا۔
وفد نے اتحادِ امت کے اس کامیاب تجربے کو مستقبل میں بھی برقرار رکھنے اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
قائد ملت جعفریہ نے گلگت بلتستان کی سابق حکومت کی عوامی خدمت پر مبنی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک بہترین معاشرے کے قیام کے لیے مخلصانہ سیاست، عوامی خدمت، معاشرتی اقدار کے فروغ، امن و امان اور معاشی استحکام کا حصول ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے تمام سیاسی و سماجی رہنماؤں کو باہمی مشاورت اور ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔
ملاقات کے دوران دونوں جانب کے رہنماؤں نے گلگت بلتستان میں اتحادِ امت کے سابقہ تجربات کی روشنی میں گلبر حکومت کے دور میں قائم باہمی ارتباط کو مؤثر اور مثبت قرار دیتے ہوئے آئندہ بھی مشترکہ کوششوں کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
بعد ازاں قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی دامت برکاتہ نے گلگت بلتستان کے روشن مستقبل، اتحادِ امت کے استحکام اور عوام کی بے لوث خدمت کی توفیق کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔
آپ کا تبصرہ