17 اپریل 2010 - 19:30

احتساب بیورو (نیب) نے استثنیٰ کے حوالے سے تمام تر حکومتی دعوؤں کو پس پشت ڈالتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ کو صدر آصف علی زرداری کے سندھ میں اثاثہ جات منجمد کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔

قومی  نیب حکام نے 2 فروری 2010ء کو سپریم کورٹ کے این آر او فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ کو ایک لیٹر نمبر 5/2010/ops Div-10/NABبھجوا دیا ہے ، لیٹر کے ساتھ سپریم کورٹ 16دسمبر کے این آر او فیصلے کی کاپی بھی منسلک کی ہے اور لیٹر میں ہدایات دی ہیں کہ صدر آصف علی زرداری کے سندھ میں اثاثہ جات کو منجمد کر دیا جائے اور چیف سیکرٹری سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں مزید اقدامات اٹھائے۔ نیب نے قبل ازیں این آر او قانون کے تحت 23 جون 2008ء کو صدر آصف زرداری کے سندھ میں اثاثہ جات کو ڈی فریز کرنے کے احکامات دیئے تھے۔ تاہم سپریم کورٹ کے 17 رکنی بنچ کی جانب سے این آر او کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ آنے کے بعد نیب حکام نے صدر آصف زرداری کے سندھ میں اثاثہ جات کو دوبارہ منجمد کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں اور چیف سیکرٹری سندھ کو بھی یہ ہدایت جاری کی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے نیب کو چیف سیکرٹری سندھ کو اثاثے منجمد کرنے کے حوالے سے لیٹر بھجوانے سے روک دیا تھا۔ حکومت کی جانب سے نیب کو پہلے یہ پیغام بھجوایا گیا تھا کہ چونکہ صدر مملکت کو آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت فوجداری مقدمات میں استثنیٰ حاصل ہے۔ اس لئے نیب صدر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتی۔

تاہم چیئرمین نیب اور نیب کے آپریشن ڈویژن نے این آر او فیصلے پر اپنے قانونی ماہرین سے رائے حاصل کی اور رائے لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ سپریم کورٹ نے صدر سمیت تمام تر افراد کے ملک میں اور بیرون ملک مقدمات بحال کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں صدر کو استثنیٰ کے حوالے سے کوئی رعایت نہیں دی گئی۔ اس لئے پہلے مرحلے میں چیف سیکرٹری سندھ کو صدر کے اثاثہ جات منجمد کرنے کے حوالے سے ضروری ہدایات جاری کی جائیں گی۔

 /152