28 جنوری 2026 - 15:42
افغانستان کے شیعہ و سنی علما کا رہبرِ انقلاب اور ملتِ ایران سے حمایت و یکجہتی کا اعلان

شمالی افغانستان کے شیعہ اور سنی علما نے رہبرِ انقلاب اسلامی اور ملتِ ایران سے یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے ایران کو اسلام کا مضبوط دفاعی حصار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جمہوری اسلامی ایران اور اس کی قیادت کا دفاع ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، شمالی افغانستان کے شیعہ اور سنی علما نے ایک مشترکہ تقریب میں رہبرِ معظمِ انقلاب اسلامی اور ملتِ ایران کے ساتھ اپنی بھرپور حمایت اور یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے ایران کو اسلام کا محافظ اور عالمی استکبار کے مقابل ایک مضبوط قلعہ قرار دیا، جبکہ انہوں نے کہا کہ اس اسلامی ملک اور اس کی قیادت کا دفاع ہر مسلمان پر لازم ہے۔

یہ بات افغانستانی علما نے “صہیونی ـ امریکی رژیم کی جانب سے بد امنی اور دہشت گردانہ اقدامات کی مذمت اور رہبرِ معظمِ انقلاب و ملتِ ایران سے حمایت و یکجہتی” کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔

افغان خبر رساں ایجنسی “صدائے افغان” کے مطابق، بلخ صوبے میں شیعہ علما کونسل کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین حسین علی بیانی نے اس موقع پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مسلط کردہ اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذرائع ابلاغ جو انسانی اور اسلامی اقدار سے عاری ہیں، امریکا اور اسرائیل کی مکمل پشت پناہی سے بالخصوص مسلمان اقوام، خاص طور پر ملتِ ایران کے خلاف سرگرم ہیں اور جھوٹ و افواہوں کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لیے عوام کو ایسے میڈیا کے فریب میں نہیں آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مسلمان قومیں آپس میں بھائی ہیں اور ہم افغانستان کی مسلمان ملت، دیگر مسلمان اقوام بالخصوص حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ‌ای (حفظہ اللہ) جو دنیا بھر کے شیعوں کے مرجع تقلید ہیں، اور ملتِ ایران کی حمایت کرتے ہیں اور اس ملک کے خلاف امریکا و اسرائیل کی سازشوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

حجت الاسلام بیانی نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور انسانیت سوز جرائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے دعوے دار دیگر ادارے غزہ کے معاملے میں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جبکہ جمہوری اسلامی ایران کے جائز مؤقف کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔

اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلخ صوبے میں اسلامی اخوت کونسل کے رکن مولوی ذبیح اللہ حقجو نے شیعہ و سنی اتحاد اور امتِ مسلمہ کے درمیان وحدت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ انگیز زبان درحقیقت اسلام دشمنوں کی زبان ہے، اور تمام مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق قرآن اور رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ کی سیرت سے وابستہ رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ قرآن کریم نے یہود کو اسلام اور مسلمانوں کا خطرناک ترین دشمن قرار دیا ہے، اس لیے یہ سمجھنا غلط ہے کہ یہود صرف ایران کے دشمن ہیں، بلکہ ان کی دشمنی دراصل دینِ اسلام سے ہے۔

مولوی حقجو نے واضح کیا کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور تفرقہ ڈالنا دشمنانِ اسلام کی پرانی چال ہے، اور موجودہ حالات میں عرب و عجم، شیعہ و سنی کا ایک دوسرے کی حمایت کرنا ایک شرعی اور سنجیدہ ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف بحران پیدا کرنے کی اصل وجہ اسلام دشمنی ہے، اور ایران و امریکا کی کشمکش درحقیقت حق و باطل کی جنگ ہے، جبکہ جمہوری اسلامی ایران دشمنانِ اسلام کے مقابل مسلمانوں کے خلاف سازشوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

اہلِ سنت عالم دین نے کہا کہ رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ‌ای نے اسرائیل، امریکا اور ان کے اتحادیوں کے ساتھ 12 روزہ جنگ میں ثابت کر دیا کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کے سچے فرزند ہیں، جنہوں نے دشمنوں کو اس حد تک دباؤ میں لے آیا کہ وہ صلح کی بات کرنے پر مجبور ہو گئے۔

مولوی ذبیح اللہ حقجو نے اس بات پر زور دیا کہ “شیطانِ بزرگ” امریکا مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنا چاہتا ہے، تاہم ہم افغان قوم اعلان کرتے ہیں کہ ہم اپنے ایرانی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، اور مسلمانوں کے اتحاد کے ذریعے اسلام عزیز کو یقینی فتح حاصل ہوگی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha