اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، حماس نے کہا ہے کہ صہیونی رژیم نے غزہ میں نسل کشی کی جنگ کے دوران سینکڑوں فلسطینی شہداء کے جسم قبضے میں رکھے ہیں، جن میں سے بعض دہائیوں سے “شماره دار” قبرستانوں میں موجود ہیں۔ حماس نے بتایا کہ اشغالگران نہ صرف یہ جسم اہل خانہ کو دینے سے انکار کر رہے ہیں، بلکہ کچھ جسموں کے حالات کے بارے میں کوئی معلومات بھی فراہم نہیں کر رہے، جو ایک واضح انسانی جرم اور عالمی برادری کی مشکوک خاموشی کے باوجود غیر انسانی اقدام ہے۔
حماس نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ عالمی توجہ کئی دہائیوں سے صرف صہیونی فوجیوں کے جسموں پر مرکوز ہے، جبکہ ہزاروں فلسطینی خاندانوں کے بچوں اور عزیزوں کے جسم زبردستی غائب کر دیے گئے ہیں۔ اس نے کہا کہ یہ اخلاقی بحران اور انصاف کے معیار کی شدید خلاف ورزی ہے۔
حماس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ صہیونی رژیم پر دباؤ ڈالے، شہداء کے جسم فوری طور پر اہل خانہ کے حوالے کیے جائیں، رفح گزرگاہ کھولی جائے اور بھاری مشینری اور طبی آلات داخل کیے جائیں تاکہ ملبے سے جسم نکال کر مناسب طریقے سے دفن کیے جا سکیں۔
مزید برآں، وزارتِ صحت غزہ نے خبردار کیا ہے کہ رفح گزرگاہ کی بندش کے باعث مریضوں اور زخمیوں کی حالت خطرناک حد تک خراب ہو گئی ہے۔ تقریباً 20 ہزار مریض بیرونِ غزہ علاج کے لیے انتظار میں ہیں، جبکہ کمبودِ دوائی، طبی آلات کی کمی اور اسپتالوں کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے سبب 440 مریض شدید حالت میں ہیں اور 1268 مریض علاج کے انتظار میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔
غزہ میں صہیونی رژیم کی جارحیت جاری ہے اور وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں دو نئے شہداء اور 9 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ آتش بس کے اعلان کے بعد سے شہداء کی تعداد 488 اور زخمیوں کی تعداد 1350 ہو چکی ہے، جبکہ ملبے سے جسم نکالنے کی کارروائیاں 714 مرتبہ انجام دی جا چکی ہیں۔
صہیونی تجاوزات کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 71,662 افراد شہید اور 171,428 زخمی ہو چکے ہیں۔ وزارتِ صحت نے زور دیا ہے کہ رفح گزرگاہ کی فوری کھلی اور طبی امداد کی روانگی ہی مریضوں کی جان بچانے کا آخری امکان ہے۔
آپ کا تبصرہ