26 جنوری 2026 - 17:03
حزب اللہ عراق کی بریگیڈز کا اعلان: محورِ مقاومت کی تمام قوتیں ایران کی حمایت کے لیے تیار ہیں

ابو حسین الحمیداوی نے کہا کہ جو لوگ یہ نہیں چاہتے کہ کفر اور نفاق کا محاذ اہلِ ایمان اور عدل کے خلاف مسلط ہو، وہ جمہوری اسلامی ایران کی حمایت اور دفاع کے لیے ہمہ گیر جنگ کی تیاری کریں، کیونکہ جمہوری اسلامی ایران گزشتہ چار دہائیوں سے امتِ مسلمہ کا قلعہ اور اس کی عزت کا مظہر ہے، جو مظلوموں اور امتِ محمدؐ کے برحق اہداف کے ساتھ مذہب، رنگ اور نسل کی تمیز کے بغیر کھڑا رہا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق،امریکی اور صہیونی حکام کے ایران مخالف بیانات کے بعد حزب اللہ عراق کی بریگیڈز نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ محورِ مقاومت کے تمام مجاہدین اور اہلِ ایمان جمہوری اسلامی ایران کی حمایت میں ہمہ گیر جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں۔

بیان میں حزب اللہ عراق کی بریگیڈز کے سیکریٹری جنرل ابو حسین الحمیداوی نے قرآنِ کریم کی اس آیت کا حوالہ دیا:
«وَقَاتِلُوا الْمُشْرِکِینَ کَافَّةً کَمَا یُقَاتِلُونَکُمْ کَافَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِینَ»
اور کہا کہ وہ مشرق و مغرب میں موجود تمام مجاہدین اور ہر اس شخص کو مخاطب کرتے ہیں جس کا دل ایمان، اللہ اور اس کے رسولؐ کی محبت سے بھرا ہوا ہے اور جو یقین رکھتا ہے کہ عزت اللہ، اس کے رسولؐ اور اہلِ ایمان ہی کے لیے ہے۔

ابو حسین الحمیداوی نے کہا کہ جو لوگ یہ نہیں چاہتے کہ کفر اور نفاق کا محاذ اہلِ ایمان اور عدل کے خلاف مسلط ہو، وہ جمہوری اسلامی ایران کی حمایت اور دفاع کے لیے ہمہ گیر جنگ کی تیاری کریں، کیونکہ جمہوری اسلامی ایران گزشتہ چار دہائیوں سے امتِ مسلمہ کا قلعہ اور اس کی عزت کا مظہر ہے، جو مظلوموں اور امتِ محمدؐ کے برحق اہداف کے ساتھ مذہب، رنگ اور نسل کی تمیز کے بغیر کھڑا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ آج جب صہیونیوں اور سرکش طاقتوں میں سے گمراہ قوتیں ایران کو جھکانے یا حتیٰ کہ اسے مٹانے اور دنیا سے تمام اخلاقی و اقداری اصول ختم کرنے کے لیے اکٹھی ہو رہی ہیں، تو محورِ مقاومت کے تمام گروہوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ جمہوری اسلامی ایران کی حمایت کریں۔

حزب اللہ عراق کی بریگیڈز نے دشمنوں کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری اسلامی ایران کے خلاف جنگ کسی کے لیے سیر و تفریح نہیں ہوگی، بلکہ دشمن کو سخت اور دردناک انجام کا سامنا کرنا پڑے گا اور خطے میں اس کے لیے کوئی وجود باقی نہیں رہے گا۔

بیان میں مجاہدین کو ہدایت کی گئی کہ وہ میدانِ عمل میں اس معرکے کے لیے خود کو تیار کریں اور دو میں سے ایک بھلائی، یعنی فتح یا شہادت، کے لیے آمادہ رہیں، بالخصوص اگر بزرگ مراجعِ کرام اس مقدس جنگ کے لیے جہاد کا فتویٰ صادر کریں اور دفاعِ اسلام کے سلسلے میں جو بھی ذمہ داری عائد ہو، اس کے لیے مکمل آمادگی اختیار کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha