اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایران میں گزشتہ دنوں امریکی و اسرائیلی سازشوں کے تحت ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی مذمت کرتے ہوئے مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد نقوی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے اسلامی نظام سے خوف زدہ ہیں جس کے خلاف مسلسل سازشیں کی جاتی رہی ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران میں گزشتہ دنوں امریکی و اسرائیلی سازشوں کے تحت ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی مذمت کرتے ہوئے مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد نقوی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے اسلامی نظام سے خوف زدہ ہیں جس کے خلاف مسلسل سازشیں کی جاتی رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب سے ایران میں انقلاب آیا ہے تب سے امریکہ اور اسرائیل کی کوشش یہ رہی ہے کہ انقلاب کو ختم کردیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی ایران میں جو حالات کشیدہ ہیں اس کے پیچھے یہی استعماری طاقتیں کار فرما ہیں؛ مظاہرین کے پاس جدید خطرناک اسلحے کا موجود ہونا یہ ظاہر کرتاہے کہ انہیں بیرونی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے ۔دشمنوں نے ایرانی حکومت کو گرانے کی پوری منصوبہ بندی کی تھی جس کو ایرانی عوام اور قیادت نے ناکام بنادیا۔
مولانا نے مظاہرین سے فسادیوں اور فتنہ پردازوں کو الگ کرتے ہوئے کہاکہ ایران میں جو کام احتجاج کے نام پر شرپسندوں نے کیا وہ مسلمان نہیں کرسکتے ۔مسجدیں اور امام باڑے جلائے گئے ہیں ۔مقدس مزارات کی توہین کی گئی ہے اور انہیں نذر آتش کیا گیا ہے۔ قومی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ عمارتیں پھونکی گئیں ۔یہ کام کوئی مسلمان نہیں کرسکتا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مظاہرین کے درمیان شامل فتنہ پرور مسلمان نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل کے ایجنٹ ہیں جو مظاہرین کے درمیان گھس کر حالات کو بگاڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس سے پہلےبھی امریکہ اور اسرائیل نے حالات خراب کرنے کی کوششیں کی ہیں مگر ہمیشہ ایرانی قوم کے اتحاد اور بابصیرت قیادت نے ان کے منصوبوں کو خاک میں ملادیا ۔موجودہ حالات میں بھی ایرانی قوم ہی امریکی اور اسرائیلی سازشوں کو ناکام کرے گی جس کا آغاز ہوچکاہے ۔بڑی بڑی ریلیاں انقلاب اور رہبر انقلاب کی حمایت میں نکل رہی ہیں جسے میڈیا چھپانے کی کوشش کررہاہے۔
امام جمعہ مولانا کلب جواد نقوی نے کہا کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ احتجاج مہنگائی کے خلاف ہورہے ہیں ان سے سوال ہونا چاہیے کہ آخر مہنگائی کس کی وجہ سے ہے ؟ مہنگائی ایرانی حکومت کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ہے، لہٰذا احتجاج ایرانی حکومت کے خلاف نہیں بلکہ امریکی پابندیوں کے خلاف ہونا چاہیے ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ احتجاج مہنگائی کے نام پر انقلاب کو ختم کرنے کے لئے شروع کئے گئے جو امریکی اور اسرائیلی سازشوں کا حصہ ہیں۔
مولانا نے کہاکہ رہبر انقلاب کا واضح بیان ہے کہ ہم جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے ،اس کےباوجود جوہری توانائی کو بہانہ بناکر ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کردی گئیں اور مسلسل حملے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جوہری ہتھیار صرف حملے کا بہانہ ہیں ۔یہ طاقتیں ایران کے نظام سے خوف زدہ ہیں اور نظام کی تبدیلی کے لئے فتنہ و فساد پھیلا رہی ہیں ۔
مولانا نے کہا کہ ایران نے جوہری توانائی ایجنسی (IAEA)کے ساتھ معاہدے پر دستخط کئے تھے کہ ہم جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے ،اس کے باوجود ایران پر جوہری ہتھیاروں کے بہانے پابندیاں عائد کردی گئیں جس کی دنیا کو مخالفت کرنی چاہیے تھی۔
مولانا نے کہا کہ جن ملکوں نے جوہری ہتھیار بنائے ان پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی لیکن ایران جو مسلسل کہہ رہا ہے کہ ہم جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے اور عالمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون بھی کررہاہے ،اس پر جوہری ہتھیاروں کے بہانے پابندیاں عائد کی جارہی ہیں ۔دراصل یہ ایران پر حملے کے بہانے تلاش کررہے ہیں تاکہ اسلامی نظام کو نقصان پہنچایا جاسکے، مگر اب ان کی سازشیں بے نقاب ہوچکی ہیں۔
مولانا نے اپنے بیان میں کہاکہ امریکی عوام نے ایک غنڈے کو اپنا صدر منتخب کیاہے۔اس غنڈے نے وینزویلا کے صدر کا اغوا کرلیا مگر دنیا خاموش رہی ۔حتیٰ کہ ہندوستان نے بھی اس واقعے کی مذمت نہیں کی جو افسوس ناک ہے ۔ہم ہندوستان سے اپیل کرتے ہیں کہ ہماری سرکار وینزویلا اور ایران میں امریکی مداخلت کی مذمت کرے ۔آخر امریکہ کو یہ اختیار کس نے دیاکہ وہ دوسرے ملکوں کے معاملات میں مداخلت کرے ۔وینزویلا کے بعد اب ہر ملک کی حکومت خطرے میں ہے ۔کیا جس ملک سے امریکہ ناراض ہوگا اس کے صدر اور وزیر اعظم کو اٹھالے جائے گا؟۔اس کی عالمی سطح پر مخالفت ہونی چاہیے تاکہ آئندہ امریکہ ایسی جرأت کا مظاہرہ نہ کرسکے ۔
مولانا نے کہاکہ ایران میں جو مظاہرے ہورہے ہیں ان میں شامل شرپسند امریکہ اور اسرائیل کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں ۔ا اگر کوئی ہندوستان میں چین اور پاکستان کا جھنڈا لے کر احتجاج کرے گا تو کیا ہماری حکومت اور عوام اس کی حمایت کریں گے ؟ ہرگز نہیں !اس کو غدار وطن کہا جائے گا اور سرکار کاروائی کرے گی ۔یہی ایران میں بھی ہو رہا ہے ۔کچھ مظاہرین جو ایجنٹ ہیں وہ امریکہ اور اسرائیل کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے ان کے خلاف ایران نے کاروائی کی ہے جسے میڈیا غلط انداز میں پیش کررہاہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم ہندوستانی سرکار سے اپیل کرتے ہیں کہ ایران میں امریکی اور اسرائیلی مداخلت کی مذمت کی جائے اور ان حکومتوں کا بائیکاٹ کیا جانا چاہیے۔
مولانا نے میڈیا کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا پروپیگنڈہ کررہاہے کہ آیت اللہ خامنہ ای ایران چھوڑ کر فرار کر رہے ہیں، ایسے بیانات قابل مذمت ہیں ۔میڈیا کو اپنا رویہ درست کرنا چاہیے کیونکہ ہماری قیادت کبھی فرار نہیں کرتی ۔
مولانا نے کہا کہ میڈیا کو چاہیے کہ وہ حقائق کو تلاش کرکے عوام تک پہنچائے اور استعماری پروپیگنڈہ کا شکار نہ ہو۔
آپ کا تبصرہ