22 جنوری 2026 - 15:47
احتجاج کے نام پر پرتشدد کارروائیاں دراصل رژیم چینج کی منظم سازش تھیں، صدر پزشکیان

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ حالیہ پرتشدد واقعات سے متعلق تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ یہ سرگرمیاں ابتدا میں جائز احتجاج کی صورت میں شروع ہوئیں، تاہم ایک مخصوص مرحلے کے بعد یہ اسلامی جمہوری ایران کے خلاف نظام کی تبدیلی کی منظم سازش میں تبدیل ہو گئیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ پرتشدد ہنگاموں کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ان کے اصل اسباب کی نشاندہی کی جا سکے اور اندرونی کمزوریوں کو دور کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سوال اہم ہے کہ دنیا کے کس ملک میں احتجاج کے دوران ایمبولینسوں، امدادی گاڑیوں اور فائر بریگیڈ پر حملے کیے جاتے ہیں یا پولیس اہلکاروں کو براہ راست نشانہ بنایا جاتا ہے۔

صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک ایسے واقعات کی روک تھام، بعد ازاں مجرموں سے نمٹنے کے عمل سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں ذہنی صحت کی بہتری اور سماجی بے ترتیبی کا علاج، مہنگے طبی اقدامات حتیٰ کہ سرجری سے بھی زیادہ ضروری ہے۔

انہوں نے تناؤ میں کمی، تشدد کی روک تھام اور سماجی تقسیم کو گہرا ہونے سے بچانے کے لیے کیے جانے والے ہر اقدام کو بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا اور کہا کہ ڈاکٹرز، نرسز اور طبی عملہ اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جس کے لیے ملکی صحت کے تمام وسائل بروئے کار لانا ہوں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha