21 جنوری 2026 - 13:46
مآخذ: ابنا
 ایران پرامن ایٹمی افزودگی کے اپنے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا

جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے نے منگل کے روز کانفرنس برائے تخفیفِ اسلحہ کے اجلاس میں واضح کیا کہ تہران پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی کے اپنے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے نے منگل کے روز کانفرنس برائے تخفیفِ اسلحہ کے اجلاس میں واضح کیا کہ تہران پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی کے اپنے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔

علی بحرینی نے امریکہ اور صہیونی رژیم کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان اقدامات کو اقوامِ متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام (این پی ٹی) کے لیے سنگین ضرب قرار دیا۔

بحرینی نے کانفرنس برائے تخفیفِ اسلحہ کی صدارت سنبھالنے پر منگولیا کو مبارکباد دیتے ہوئے اس ادارے کے مذاکراتی کردار کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور کہا,“کانفرنس برائے تخفیفِ اسلحہ، جو تخفیفِ اسلحہ کے میدان میں واحد کثیرالجہتی مذاکراتی فورم ہے، کو اپنی اصل مذاکراتی حیثیت برقرار رکھنی چاہیے اور محض گفت و شنید کے پلیٹ فارم میں تبدیل ہونے سے بچنا چاہیے۔

انہوں نے 2025 کی حالیہ پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 13 جون کو صہیونی رژیم کا ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملہ غیرقانونی، پہلے سے منصوبہ بند اور بین الاقوامی قوانین کے آمرانہ اصولوں کی خلاف ورزی تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس جارحیت کے تسلسل میں، امریکہ نے 22 جون کو ایک ایسے رژیم کے ساتھ ہم آہنگی کرتے ہوئے جو این پی ٹی کا رکن نہیں، فردو، نطنز اور اصفہان میں ایران کی محفوظ شدہ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جو عالمی امن و سلامتی اور عدم پھیلاؤ کے نظام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

ایرانی نمائندے نے زور دے کر کہا اسلامی جمہوریہ ایران اقوامِ متحدہ کے منشور کے دائرے میں ہر قسم کی جارحیت کا جواب دے گا، اور پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی ایران کا ایک مسلم، ناقابلِ انکار حق ہے، جس سے وہ کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

انہوں نے ساتھ ہی واضح کیا کہ ایران ہمیشہ بغیر کسی پیشگی شرط، باہمی احترام کی بنیاد پر حقیقی مذاکرات کے لیے آمادہ رہا ہے۔

سفیرِ ایران نے بالخصوص جوہری میدان میں جاری اسلحہ کی دوڑ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کی جانب سے اپنے جوہری ذخائر کی جدید کاری پر تنقید کی اور کہا کہ یہ طرزِ عمل این پی ٹی کے آرٹیکل چھ اور اس کے نظرثانی اجلاسوں میں طے شدہ وعدوں کے منافی ہے۔

انہوں نے امریکہ کی وسیع جوہری بازدارتی پالیسی، نیٹو کے بعض ممالک میں امریکی جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی، اور فرانس و برطانیہ کی جوہری قوتوں کی جدید کاری کو ان ممالک کے جوہری ہتھیاروں پر مسلسل انحصار اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔

بحرینی نے اس بات پر زور دیا کہ جوہری تخفیفِ اسلحہ عالمی برادری کی اولین ترجیح رہنی چاہیے اور مطالبہ کیا کہ کانفرنس برائے تخفیفِ اسلحہ میں فوری طور پر ایک جامع کنونشن کی تیاری کے لیے مذاکرات شروع کیے جائیں، جس کا مقصد تمام جوہری ہتھیاروں کا مکمل، قابلِ تصدیق اور ناقابلِ واپسی خاتمہ ہو۔ انہوں نے اس کی بنیادی ذمہ داری جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک پر عائد کی۔

سفیرِ ایران نے 1974 میں مشرقِ وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے کے لیے ایران کے پیش کردہ اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا, صہیونی رژیم، جو جوہری ہتھیار رکھتا ہے اور این پی ٹی میں شمولیت اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی قبول کرنے سے انکار کرتا ہے، اس ہدف کے حصول میں واحد رکاوٹ ہے۔

علی بحرینی نے امریکہ کی جانب سے بولیواری جمہوریہ وینزویلا کے قانونی صدر کے اغوا کا ذکر کرتے ہوئے اسے ایک آزاد ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دیا۔

انہوں نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا, اقوامِ متحدہ اور کانفرنس برائے تخفیفِ اسلحہ کے رکن ملک کے صدر کا اغوا عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک حقیقی اور فوری خطرہ ہے، اور ایسے رویوں کو معمول سمجھنا یا برداشت کرنا بین الاقوامی قانونی نظام کو کمزور کر دے گا۔

سفیرِ ایران نے وینزویلا کے صدر کی فوری رہائی اور اس ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عوام کے حقِ خود ارادیت کے مکمل احترام کا مطالبہ کیا۔

آخر میں، ایران کے مستقل نمائندے نے امریکہ کے نام نہاد طاقت کے ذریعے امن کے نظریے پر تنقید کرتے ہوئے کہا, پائیدار امن اور سلامتی صرف کثیرالجہتی تعاون، اقوامِ متحدہ کے منشور کے احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے ہی ممکن ہے، اور کانفرنس برائے تخفیفِ اسلحہ اس راستے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha