19 جنوری 2026 - 15:49
800 افراد کی سزائے موت کی خبر بے بنیاد، تہران میں کوئی سفارت خانہ بند نہیں ہوا، ایرانی وزارت خارجہ

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے 800 افراد کی پھانسی کی خبر کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جرائم پر امریکہ کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان گذشتہ دنوں ملک میں 800 افراد کو سزائے موت دینے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے  مطابق ہفتہ وار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ نے تاریخ میں متعدد مواقع پر ایرانی شہریوں کے خلاف اقدامات کیے ہیں۔ ایران کے خلاف امریکی جرائم کی فہرست طویل ہے۔ ایرانی مسافر طیارے کی تباہی، شہید قاسم سلیمانی پر حملہ اور بارہ روزہ جنگ میں 1000 سے زائد ایرانی شہریوں کی شہادت امریکی جرائم کی مثال ہے۔ ایرانی حکومت امریکہ کے خلاف قانونی کاروائی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والے کالم سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ ایران کو تقسیم کرنے کی مکروہ سازش کررہا ہے۔ دشمن نے اس منصوبے کو بار بار آزمایا لیکن ہر دفعہ شکست کا سامنا ہوا۔ ایران کو تقسیم کرنے کی سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔

بقائی نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بارے میں کہا کہ امریکہ اور صہیونی حکومت کسی بین الاقوامی قانون کے پابند نہیں۔ ہم خطے کے ممالک کا دوبارہ یاد دلاتے ہیں کہ اپنی سرزمین کسی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال ہونے نہ دیں۔ علاقائی ممالک کے درمیان اتفاق اور باہمی تعاون خطے میں امن کے قیام کے لئے مفید ہوگا۔

انہوں نے تہران میں یورپی سفارت خانوں کے بند ہونے سے متعلق خبروں پر کہا کہ انٹرنیٹ سروس ختم ہونے کی وجہ سے ان سفارت خانوں کو مشکلات پیش آئیں اور کچھ ممالک نے اپنے بعض سفارت کاروں کو ایران سے نکالا تاہم کوئی سفارت خانہ بند نہیں ہوا۔ جب کسی سفارت خانے میں عملے کی کمی ہوجائے تو خدمات کی فراہمی کا سلسلہ بھی متاثر ہوجاتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ مغربی ذرائع ابلاغ جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیشہ ایران کے بارے میں جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں۔ 800 افراد کی سزائے موت کی خبر اس سلسلے کی کڑی تھی۔ فسادات اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کے بارے میں شروع سے شواہد جمع کیے جارہے ہیں۔ عدالت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تحقیقات کے مطابق اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha