16 جنوری 2026 - 23:14
مآخذ: ارنا
کسی بھی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے:عراقچی 

وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے سعودی ہم منصب کے ساتھ ٹیلیفونی گفتگو میں واضح کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہر قسم کی بیرونی جارحیت کے مقابلے میں ملک کی حدود اور سرحدوں کا پوری قوت سے دفاع کرے گا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے سعودی ہم منصب کے ساتھ ٹیلیفونی گفتگو میں واضح کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہر قسم کی بیرونی جارحیت کے مقابلے میں ملک کی حدود اور سرحدوں کا پوری قوت سے دفاع کرے گا۔

 وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان کے ساتھ ٹیلیفونی گفتگو میں دوجانبہ روابط اور علاقائی نیز بین الاقوامی حالات پر تبادلہ خیال کیا۔

اس گفتگو میں دونوں وزرائے خارجہ نے سبھی شعبوں میں باہمی روابط میں توسیع اور استحکام پر زور دیا۔

اس ٹیلیفونی گفتگو میں وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے گزشتہ دنوں عوام کے پر امن مظاہروں کو اغیار کے زرخرید تربیت یافتہ دہشت گردوں کے ذریعے اغوا کرکے بلوے اور دہشت گردی میں تبدیل کردیئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان بلوؤں اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں امریکا اور غاصب صیہونی حکومت سے وابستہ دہشت گرد ملوث تھے۔

انھوں نے خطے کے ملکوں کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کی عالمی سطح پر مذمت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہر بیرونی جارحیت کے مقابلے میں اپنے عوام کی حمایت اور بصیرت کے سہارے ملک کی حدود اور سرحدوں کا پوری قوت سے دفاع کرے گا۔

وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی حکام کے مداخلت پسندانہ اشتعال انگیز بیانات کی مذمت کرتے ہوئے، صیہونی حکومت کے توسیع پسندانہ اقدامات کے مقابلے میں خطے کی سلامتی و استحکام کے تحفظ میں سبھی علاقائی ملکوں کی ذمہ داری پر زور دیا۔

اس ٹیلیفونی گفتگو میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں ہر قسم کی شدت پورے خطے کو متاثر کرے گی۔

انھوں نے کشیدگی دور کرنے کے لئے سفارتی راستوں سے کام لئے چانے اور علاقے کی سلامتی و استحکام کے تحفظ میں علاقائی ملکوں کے باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

اس ٹیلیفونی گفتگو میں دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کی برقراری کے لئے کوششوں اور مشاورتوں کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha