17 اپریل 2010 - 19:30

ریڈیو تہران کی پشتوسروس کے مطابق پاکستان کے تین سو فوجی افسران اور اہلکار سعودی عرب کی درخواست پریمن پہنچ گئے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق ان فوجیوں کی روانگی کو جو گذشتہ ماہ انجام پائی خفیہ رکھا جارہا ہے۔

اگرچہ پاکستان اس خود بھی خانہ جنگی کی صورتحال سے دوچار ہے لیکن چونکہ وہ خود کو دہشت گردی کے خلاف نام نہاد عالمی جنگ میں امریکہ کا حلیف سمجھتا ہے اسی لئے یمن کی جنگ میں کود پڑنا کوئی تعجب خیز بات نہیں ہے ۔ البتہ پاکستانی عوام کے لئے یہ خبربجلی بن کر گرے گی جو پچھلے تین عشروں سے امریکی پالسیوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں ۔شمالی یمن کے باشندوں کے خلاف اس سے پہلے کے برسوں میں بھی یمن کی فوج کاروائی کرچکی ہے چنانچہ موجودہ کاروائی کوچھٹی جنگی کاروائی کہا جاتا ہے۔ شمالی یمن کے الحوثی گروہ کی موجودہ جنگ میں کامیابی کے بعد سعودی عرب کی فوج  براہ راست اس جنگ میں یمنی باشندوں کے خلاف کود پڑی اورگذشتہ نومبرسے تووہ مسلسل یمنی باشندوں پرظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے جبکہ سعودی عرب کے جنگی طیارے توگذشتہ اگست میں جنگ شروع ہونے کے کچھ ہی عرصے کے بعد سے ہی شمالی یمن کے باشندوں پربم برسارہے ہيں ۔اس میں شک نہيں کہ یمن کی جنگ میں امریکہ اورسعودی عرب کی مداخلت اور اب پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی ایک آزاد وخودمختار کی ارضي سالمیت اور اقتدار اعلی کی خلاف ورزی ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یمنی حکومت صعدہ صوبے کے شیعہ مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرنے کی غرض سے اس اہم معاملہ کونظراندازکررہی ہے ۔ دوسری طرف سے امریکہ کو یمن میں فوجی مداخلت کرنے میں اس لئے بھی مشکلات کا سامنا ہے کہ پورے یمن کے لوگ امریکہ مخالف جذبات رکھتے ہيں۔چند روز قبل یمن کے علماء نے اپنے ایک اجلاس میں اعلان کیا تھا کہ اگرامریکہ نے ان کے ملک میں فوجی مداخلت کی تو وہ یمن میں ہرطرح کی غیرملکی فوجی مداخلت کے خلاف جہاد کا اعلان کردیں گے ۔اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو سعودی عرب کی درخواست پرپاکستانی فوجیوں کی یمن میں تعیناتی ایک بار پھر پاکستان کو بطور ڈھال استعمال کرنے کی سازش نظر آتی ہے۔ اگرچہ پاکستانی حکام نے اس خبر کی باضابطہ طور پر تائید نہیں کی ہے تاہم افغان جنگ میں دونوں ملکوں کا قریبی تعاون اور طالبان کی حمایت وپشتپناہی اور یمن کے لئے فوج بھیجے جانے کی سعودی عرب کی درخواست کا پاکستان کے وزیرداخلہ رحمان ملک کی جانب سے مثبت جواب اس حقیقت کو آشکارا کردیتا ہے کہ پاکستان جو پہلے ہی متعدد مشکلات اور مسائل سے دوچار ہے اب ایک اور بڑی مشکل میں گرفتار ہوگیاہے کہ جس کے نتائج پاکستان کے لئے یقینا مطلوب نہیں ہوں گے۔