اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، وینزویلا کے اٹارنی جنرل طارق ویلیام صعب نے صحافیوں کو بتایا کہ آدھی رات کے بعد ہونے والے ایک حملے میں درجنوں سکیورٹی اہلکار اور عام شہری مارے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل کا دفتر ان ہلاکتوں کی تحقیقات ’’جنگی جرائم‘‘ کے طور پر کرے گا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، وینزویلا کے حکام نے بتایا ہے کہ اب تک ہلاکتوں کی تصدیق شدہ تعداد میں سکیورٹی فورسز کے 24 اہلکار شامل ہیں، جبکہ مزید نقصانات کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔
ہفتے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر بڑے پیمانے پر حملے کا اعلان کیا تھا، جس کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو حراست میں لے کر امریکا منتقل کیا گیا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ واشنگٹن ’’اقتدار کی محفوظ، مناسب اور معقول منتقلی‘‘ تک وینزویلا کے امور کی نگرانی جاری رکھے گا۔
اسی پس منظر میں امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے وینزویلا میں امریکی فوج بھیجنے کی سختی سے تردید کی اور زور دیا کہ امریکا کاراکاس کے ساتھ ’’جنگ میں نہیں‘‘ ہے۔
جانسن کے یہ بیانات اس بریفنگ کے بعد سامنے آئے جس میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ حکام نے انہیں حالیہ حملے کے بارے میں آگاہ کیا۔ جانسن نے کہا کہ امریکی حکومت کا وینزویلا میں فوجی یونٹس بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں اور اس بات پر زور دیا کہ کی گئی کارروائیاں ’’ریجیم چینج آپریشن‘‘ نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’وینزویلا کی سرزمین پر کوئی امریکی مسلح فوج موجود نہیں‘‘۔
اسپیکر مائیک جانسن نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا میں ’’ریاستی سرپرستی میں منشیات کی اسمگلنگ‘‘ امریکا کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے اور اسی بنیاد پر ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کو جائز قرار دیا۔
دوسری جانب پیر کے روز نیکولس مادورو نیویارک کی ایک عدالت میں پیش ہوئے، جہاں انہوں نے اپنے خلاف عائد تمام الزامات، جن میں ’’بدعنوان اور غیرقانونی حکومت کی قیادت‘‘ اور ’’منشیات اسمگلروں سے تعاون‘‘ شامل ہیں، کو مسترد کر دیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، عدالت سے روانگی کے وقت مادورو نے صحافیوں سے مختصر گفتگو میں کہا: ’’میں ایک جنگی قیدی ہوں۔‘‘
آپ کا تبصرہ