2 جنوری 2026 - 17:17
حضرت امیرالمؤمنینؑ کی حیاتِ طیبہ اسلام کی بقا اور عدلِ انسانی کی روشن مثال ہے: علامہ مقصود علی ڈومکی

مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے صوبائی آرگنائزر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ حضرت امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالبؑ کی پوری زندگی دینِ اسلام کی سربلندی، حق کے دفاع اور راہِ خدا میں مسلسل جدوجہد سے عبارت ہے، جو آج بھی امتِ مسلمہ کے لیے کامل نمونہ ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے صوبائی آرگنائزر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ضلع شکارپور کے علاقے ڈکھن سٹی میں جامع مسجد محمد (ص) و آل محمد (ص)  میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امیرالمؤمنین علیؑ کی ولادت خانۂ کعبہ میں ہوئی اور آپؑ کی پوری زندگی رسولِ اکرم (ص) کی نصرت، اطاعتِ خدا و رسولؐ اور حق و انصاف کے دفاع میں گزری۔

انہوں نے کہا کہ نہج البلاغہ حضرت علیؑ کے فرامین، خطوط اور حکمتوں کا وہ عظیم ذخیرہ ہے جو ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ اور علم و معرفت کا بے کراں سمندر ہے۔ مولا علیؑ کی ذاتِ اقدس انسانی فضائل و کمالات کا جامع نمونہ ہے۔ بحیثیتِ حکمران آپؑ نے حکومت اور ریاست کا جو تصور پیش کیا اور جس عدل و انصاف کو عملاً نافذ کیا، وہ آج بھی دنیا بھر کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کے لیے قابلِ تقلید مثال ہے۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ حضرت مالکِ اشترؓ کو مصر کا گورنر مقرر کرتے وقت امیرالمؤمنینؑ کی جانب سے تحریر کردہ تاریخی ہدایات انسانی تاریخ کی ایک بے مثال دستاویز ہیں، جنہیں آج بھی اقوامِ متحدہ سمیت متعدد عالمی ادارے اصولِ حکمرانی کے حوالے سے ایک جامع اور رہنما دستاویز کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنوری کا پہلا عشرہ اُن عظیم شہداء سے منسوب ہے جنہوں نے حرمِ آلِ محمد (ص) کی حرمت اور حفاظت کے لیے اپنے پاکیزہ خون کا نذرانہ پیش کیا۔ ان شہداء نے وقت کے ظالم و جابر فرعونی نظاموں اور عصرِ حاضر کی بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم داعش جیسے فتنوں کے خلاف جرات و استقامت کے ساتھ مقابلہ کیا۔ جب اہلِ بیتؑ کے مقدس حرمات پر حملہ ہوا تو یہی مجاہدینِ راہِ خدا تھے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ان مقدس مقامات کا دفاع کیا۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے اعلان کیا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیرِ اہتمام ملک بھر میں جنوری کے پہلے عشرے کو ’’عشرۂ تکریمِ شہداء‘‘ کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سندھ بھر میں صوبائی، ضلعی اور تحصیل کی سطح پر خصوصی تقریبات، مجالس، سیمینارز اور فکری نشستوں کا اہتمام کیا جائے گا، تاکہ شہداء کے پیغامِ حریت، قربانی اور استقامت کو نئی نسل تک منتقل کیا جا سکے۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے مجلس وحدت مسلمین کے تمام تنظیمی ذمہ داران، کارکنان، مومنین کرام اور عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ ان تقریبات میں بھرپور شرکت کریں اور شہداء کے مقدس مشن کو زندہ رکھنے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha