1 جنوری 2026 - 11:26
امام جواد علیہ السلام؛ مسلمانوں کے سب سے کم عمر امام

لوگ یہ سمجھتے تھے کہ چونکہ خلیفہ علی بن موسی الرضا (علیہ السلام) کے بیٹے کو اپنے محل میں بسا کر ان کا احترام کر رہا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ علویوں سے مفاہمت رکھتا ہے، لیکن حقیقت ایسی نہیں تھی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || بنی عباس خوشی کا ڈھول پیٹ رہے تھے اور علوی بہت مغموم اور غضبناک تھے؛ مأمون نے خفیہ طور پر اپنے ولی عہد علی بن موسی الرضا (علیہ السلام) کو زہر پلایا تھا۔ وہ ہرگز نہیں چاہتا تھا کہ کوئی امام ہشتم (علی بن موسی الرضا) سے اس کی دشمنی کا اس کے ہاتھوں آپؑ کے قتل کا راز میں جان لے، چنانچہ اس نے ایک اور سازش رچ لی اور امام ہشتمؑ کے بیٹے کو مدینہ سے بغداد بلوا لیا۔ امام نہم امام محمد تقی الجواد (علیہ السلام) کے چاہنے والے فکر مند ہو گئے۔ انہیں تشویش ہوئی کہ کہیں  ان کے جوان مولا کی جان خطرے سے دوچار نہ ہو جائے، لیکن پھر شہر میں مأمون کی بیٹی اور امام جواد (علیہ السلام) کی شادی کی خبر پھیل گئی۔

امام جواد علیہ السلام؛ مسلمانوں کے سب سے کم عمر امام

مأمون نے اپنی بیٹی کی شادی امامؑ سے کر دی تھی تاکہ امامؑ کے نوجوان ذوق کو محل کی عیاشیوں میں الجھا سکے۔ آپؑ کی شادی کی رات مأمون نے سو خوبصورت لونڈیاں تیار کیں اور ایک ایسے موسیقار سے کہا جو پر انبساط انداز میں موسیقی بجاتا تھا، کہ وہ اس طرح بجائے کہ امامؑ دنیا کی لذتوں میں مگن ہوجائیں؛ لیکن جواد الائمہ (علیہ السلام) نے لونڈیوں کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور موسیقار کی طرف رخ کر کے فرمایا: "اتَّقِ اللَّهَ يَا ذَا الْعُثْنُونِ‌؛ اے دراز ریش والے، اللہ سے ڈر"۔ [1] موسیقار کا مضراب اس کے ہاتھ سے گر گیا۔ اس کے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی اور مأمون کا تیر پتھر پر جا لگا۔

لوگ یہ سمجھتے تھے کہ چونکہ خلیفہ علی بن موسی الرضا (علیہ السلام) کے بیٹے کو اپنے بسا کر ان کا احترام کر رہا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ علویوں سے مفاہمت رکھتا ہے، لیکن حقیقت یہ تھی کہ مأمون کی بیٹی کا کام، ـ بطور امامؑ کی زوجہ، اپنے والد کو ہر لمحے، حتیٰ کہ گھر کی پوشیدہ باتوں کی بھی ـ اطلاع دینا تھا اور امام جواد (علیہ السلام) پر مستقل نظر رکھنا تھی۔

مأمون جب بھی کسی مجلس میں حاضر ہوتا تھا، کہہ دیتا تھا: "میں نے یہ شادی اس لئے کروائی ہے کہ ابوجعفر (امام جواد) میری بیٹی سے صاحب اولاد ہو جائیں، اور میں اس بچے کا نانا بنوں جو نسلِ پیغمبرؐ اور نسلِ علی بن ابی طالبؑ سے ہوگا۔" [2] یہ باتیں سن کر علوی مأمون کی محبت اور اس کی سچائی پر ایمان لے آتے تھے اور اس کے خلاف احتجاج اور قیام سے پیچھے ہٹ جاتے تھے۔

امام جواد (علیہ السلام)، محل کے سنہری پنجرے میں، اپنے آپ کو مأمون کی منافقانہ سازشوں سے پاک رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔ ایک دن امامؑ کا ایک ساتھی محل میں داخل ہؤا۔ اس نے حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام) کو انتہائی مال و دولت اور شان و شوکت میں دیکھا، تو سوچنے لگا: "حضرت کو یہاں جو مقام حاصل ہے، اس کی وجہ سے آپؑ کبھی مدینہ واپس نہیں جائیں گے۔" جب یہ خیال اس کے دل سے گذرا تو نویں پیشوا (علیہ السلام) کا چہرہ مبارک پیلا پڑ گیا اور فرمایا: "رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے حرم میں جو کی روٹی اور نیم پسا ہؤا نمک، میرے نزدیک اس کہیں زیادہ بہتر ہے جو تم یہاں دیکھ رہے ہو۔" [3]

آخرکار مأمون کی چالیں کامیاب نہ ہوئیں، اللہ نے اس کی بیٹی کو امام کی نسل سے کوئی اولاد نہ دی اور امام (علیہ السلام) ـ جنہوں نے بچپن ہی میں بڑی بہادری کے ساتھ مأمون کے سامنے ڈٹ کر یہ اظہار کر دیا تھا کہ وہ خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے، ـ حج کے سفر کے ارادے سے محل سے نکلنے اور مدینہ واپس آنے میں کامیاب ہو گئے۔

اس بار آپؑ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے شہر میں زیادہ سے زیادہ علوی معارف و تعلیمات پھیلانے میں مصروف ہو گئے، آپؑ کی سخاوت، فیاضی اور دانش و معرفت پوری دنیا میں پھیل گئی۔

رہبر انقلاب حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے فرمایا:

"امام جواد (علیہ السلام) دیگر معصوم ائمہؑ کی طرح ہمارے لئے اسوہ، مقتدیٰ اور مثالی نمونہ ہیں۔ اس عظیم امامؑ نے بھی اسلام کے ہمہ جہت جہاد کا ایک اہم پہلو اپنے عمل کے ذریعے سے پیش کیا اور ہمیں ایک بڑا سبق سکھایا۔ وہ بڑا سبق یہ ہے کہ جب ہم منافق اور ریاکار طاقتوں کے سامنے ہوں تو ہم ہمت کریں کہ ان طاقتوں کے مقابلے لوگوں کی ہوشیاری اور بیداری ابھار دیں۔ اگر دشمن صریح اور کھلم کھلا دشمنی کرے اور اگر وہ کوئی دعویٰ یا ریاکاری اور منافقت نہ کرے تو اس کا مقابلہ آسان تر ہے۔ لیکن جب مأمون عباسی جیسا دشمن اپنے لئے تقدس اور اسلام کی حمایت کا لبادہ اوڑھ لے تو لوگوں کے لئے اس کا اصل چہرہ پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں ہمارے زمانے تک، طاقتوروں نے ہمیشہ کوشش کی ہے، کہ جب وہ عوام کا آمنے سامنے مقابلے سے عاجز آئے ہیں، تو انہوں نے ہمیشہ ریا کاری اور منافقت جیسے حیلوں حربوں کا سہارا لیا ہے۔" [4]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 


[1]۔ الکلینی، محمد بن یعقوب الرازی، اصول کافی، ج1، ص495۔

[2]۔ ابن شہراشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب، ج4، ص380۔

[3]۔ محدث قمی، شیخ عباس بن محمد رضا، منتہی‌ الآمال‌،ج2، ص322۔

[4]۔ خطبۂ جمعہ، 10 اکتوبر 1980ع

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha