18 مارچ 2010 - 20:30

علامہ حسن ظفر نقوی نے خبر دار کیا ہے کہ گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا تو ذمہ دار حکومت ہو گی۔

آغا عباس جعفری کی رہائشگاہ جعفری ہاؤس رضویہ سوسائٹی میں سانحہ عاشورہ محرم کے حوالے سے فکری نشست کا انعقاد ہوا،جس سے علامہ حسن ظفر نقوی،فرقان حیدر عابدی،آغا عباس جعفری نے خطاب کیا۔ علامہ حسن ظفر تقوی نے کہا کہ بے گناہ شیعہ نوجوانوں کی بلا جواز گرفتاریاں قابل مذمت اور شہر کا امن خراب کرنے کی سازش ہے انہوں نے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے ہونے والے مذاکرات اور بے گناہ گرفتار شدگان کی رہائی کے سلسلے میں آگاہ کیا اور انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ وہ اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے سے گریز کریں۔تا کہ شہر کا امن تباہ ہونے کے امکانات پیدا نہ ہوں،انہوں نے کہا کہ ہماری دن رات کی کوششوں سے آج کراچی میں مثالی امن قائم ہے اور اتحاد بین المسلمین کا مظاہرہ ہوا ہے لیکن پولیس نے اپنی روایات برقرار رکھتے ہوئے گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھا تو حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت سندھ اور پولیس انتظامیہ پر عائد ہو گی۔انہوں نے گورنر سندھ،آئی جی پولیس،سی سی پی او سے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ وہ بے گناہ نوجوانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ رکوائیں اور گرفتار کئے گئے نوجوانوں کو فی الفور رہا کیا جائے،علامہ فرقان حیدر عابدی نے کہا کہ سانحہ عاشورہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی جو قابل مذمت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے اپنے ہی شہیدوں کے لاشے اٹھائے لیکن شہر کا امان تباہ نہیں ہونے دیا۔انہوں نے سانحہ کے اصل ملزمان کی گرفتاریوں کا مطالبہ کیا۔آغا عباس جعفری نے حکومت سے کہا کہ وہ شہداء کے ورثاء اور زخمیوں کو اعلان کے مطابق جلد از جلد معاوضے کی ادائیگی یقینی بنائے اور زخمیوں کا سرکاری خرچ پر بہتر علاج کرایا جائے۔اس موقع پر محمد ساجد ایڈووکیٹ،عشرت صالح،سردار حسن نقوی، مسعود حسین رضوی، رضی حیدر،حسین جعفری،وقار حیدر اور دیگر موجود تھے۔