29 نومبر 2025 - 17:51
شعبۂ شیعہ تھیالوجی اے ایم یو میں علمی مذاکرہ، نظری علم کو عملی میدان سے جوڑنے پر زور

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ شیعہ تھیالوجی میں طلبہ کی علمی و فکری صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک علمی مذاکرہ منعقد ہوا، جس میں دینی و عصری تعلیم کے باہمی ربط، کردار سازی اور ڈیجیٹل دور کے تقاضوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، شعبۂ شیعہ تھیالوجی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کانفرنس روم میں ایک اہم علمی مذاکرہ منعقد ہوا، جس کی نگرانی شعبہ کے صدر ڈاکٹر اصغر اعجاز قائمی نے کی۔ علمی مذاکرے کا بنیادی مقصد طلبہ کی فکری نشوونما، تحقیقی استعداد میں اضافہ اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔

اس موقع پر ایران کے شہر قم سے تشریف لائے معروف عالمِ دین حجۃ الاسلام مولانا سید احتشام عباس زیدی بطورِ خصوصی مہمان شریک ہوئے۔ انہوں نے اس علمی اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی نشستیں طلبہ کی فکری تربیت میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں اور ان کے تسلسل کو برقرار رہنا چاہیے۔

مقررین نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ محض نظریاتی علوم پر اکتفا کافی نہیں، بلکہ ان کا عملی اطلاق بھی ناگزیر ہے۔ ساتھ ہی جدید تعلیم کو دینی علوم کے ساتھ مربوط کرنے کی ضرورت پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ مقررین کے مطابق جامعات کا کردار صرف رسمی تدریس تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اخلاقی تربیت، ثقافتی شعور اور کردار سازی میں بھی انہیں مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے۔

نشست میں شعبہ کے سابق صدر پروفیسر سید طیب رضا نقوی کی شرکت بھی نمایاں رہی، جن کا باضابطہ خیرمقدم پروفیسر تفسیر علی نے کیا۔ علمی مکالمے کے دوران ڈاکٹر رضا عباس نے روایتی دینی مدارس اور جدید تعلیمی نظام کے باہمی تعلق اور ہم آہنگی پر اظہارِ خیال کیا، جبکہ ڈاکٹر ہادی رضا نے تعلیم کے ذریعے انسانی شخصیت اور طرزِ زندگی میں آنے والی مثبت تبدیلیوں پر گفتگو کی۔

شعبۂ سنی تھیالوجی سے تشریف لائے ڈاکٹر ریحان اختر نے بین الشعبہ جاتی علمی رابطوں کو نہایت مفید قرار دیا، جبکہ ڈاکٹر فیاض حیدر نے نوجوان نسل کو ڈیجیٹل دور میں دینی علوم کے ساتھ سائنسی اور تحقیقی طرزِ فکر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

پروگرام کی نظامت عباس رضا نے انجام دی، جبکہ ریسرچ اسکالرز اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے مکالمے کو بامقصد اور بھرپور بنایا۔ آخر میں شکریہ کی قرارداد کے ساتھ اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کی علمی و فکری سرگرمیاں مسلسل جاری رکھی جائیں گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha