15 جون 2009 - 19:30

سعودی عرب کو یمن میں شدید مزاحمت اور عظیم جانی اور مالی نقصانات اٹھانے کے بعد علی عبداللہ صالح کو ہٹانے کی فکر لاحق ہوئی ہے.

اہل البیت نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شیعہ الحوثی مجاہدین نے ایک بیان میں کہا  ہے کہ عید الاضحی کے دن بھی جارح سعودی طیاروں نے فوط اور ساقین کے علاقوں پر بمباری کی اور نہتے عوام کو خاک وخون میں غلطان کردیا۔ اس بیان میں آیا ہےکہ  ملاحیط ، شدا، ساقین اور حیدان کےعلاقوں پر بھی سعودی جارحین کی بمباری جاری ہے ۔ ادھر اطلاعات ہيں کہ یمن کی فوج نے بھی العند کے علاقے میں کئي مقامات پربمباری کی ہے جس سے متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں ۔شیعہ مجاہدین نے سعودی عرب کی فوج کی ہزیمتوں کی ویڈیو انٹرنیٹ پربھی نشر کی ہے ۔ادہر یمن کی ایک سیاسی شخصیت نے کہا ہے کہ یمن کے صدر علی عبداللہ صالح کی جانب سے گفتگو اور قومی آشتی کی دعوت تشہیراتی ہتکھنڈہ ہے ۔یمن کی الحق پارٹی کے سیاسی شعبے کے سربراہ محمد منصور نے العالم سے گفتگو میں کہا کہ علی عبداللہ صالح گفتگو اور قومی آشتی کی بات کرتے ہیں لیکن وہ قومی آشتی کے مواقع گنوانے میں بھی دیر نہیں کرتے۔ منصور نے کہا حکومت کو چاہیے کہ وہ سب سے  پہلے ملک کےبحران کو ختم کرے اور سیاسی قیدیوں کی رہائي سے گفتگو کی راہ ہموار کرے۔  دریں اثناء سعودی عرب کو یمن میں شدید مزاحمت اور عظیم جانی اور مالی نقصانات اٹھانے کے بعد علی عبداللہ صالح کو ہٹانے کی فکر لاحق ہوئی ہے. سعودی حکمران اب یمن میں اپنی پسند کا حاکم لانا چاہتا ہے جبکہ جنرل صالح بھی ان ہی کا اپنا آدمی ہے مگر شاید ان کی ڈیوٹی ختم ہوئی ہے اور سعودی عرب کو ایسا حاکم چاہئے جو یمن مین سعودی وائس رائے کا کردار ادا کرسکے جبکہ سعودی عرب مین وائس رائے کے فرائض امریکی سفیر نبھارہا ہے!بہر صورت جنرل صالح کی طرف سے قومی آشتی کی تجویز کا یہ بھی مقصد ہوسکتا ہے کہ شاید انہیں بھی اپنے خلاف سعودی سازش کا پتہ چل چکا ہے !

بشکریہ از ریڈیو تہران