برطانیہ کے وزیرخارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ افغانستان جنگ کے خاتمے کے بعد کابل میں قائم ہونے والی حکومت میں سینئر طالبان کمانڈرزشامل کیے جائیں گے ۔ ا سکاٹ لینڈ میں نیٹوکے پارلیمانی اجلاس سے خطاب میں برطانوی وزیرخارجہ نے کہا کہ افغانستان میں فوجی کار روائی کے ساتھ ساتھ سیاسی صورتحال بھی بہتر بنانا ہو گی، تاکہ کرپٹ زدہ کرزئی حکومت پر افغان عوام کا اعتماد بحال ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی اکثریت عالمی سطح پر جہاد کا ارادہ نہیں رکھتی، اس لیے انہیں لڑ ائی روکنے پر قائل کیا جا سکتا ہے ۔ملی بینڈ نے کہا کہ جنگ کے بعد کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے صلح جوطالبان کمانڈرزکا تعاون ضروری ہو گا۔ طالبان کمانڈرزتک رسائی کے لیے صدر حامد کرزئی کونیٹوکے تعاون کی ضرورت ہو گی۔ برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردی کے مسئلہ سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی مزید حمایت کرنا ہو گی۔دوسری جانب برطانوی اخبارگارجن کے اداریہ میں برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغان جنگ سے متعلق صدراوباما کا جو بھی فیصلہ ہو، اسے نظر انداز کر کے افغانستان سے انخلاء کی تاریخ کا اعلان کیا جائے ۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 172456
طالبان کی اکثریت عالمی سطح پر جہاد کا ارادہ نہیں رکھتی اس لیے انہیں لڑ ائی روکنے پر قائل کیا جا سکتا ہے ‘ سکاٹ لینڈ میں خطاب