15 جون 2009 - 19:30

ممتاز شیعہ لیڈر ،ہائی کورٹ کے سینیر وکیل،تحریک دین فہمی کے داعی الحاج مرزا جاوید مرتضی کو ایک بڑے سوگوار مجمع کی موجودگی میں کربلائے نواب ملکہ جہاں میں سپرد خاک کردیا گیا۔

تدفین میں بڑی تعداد میں جج ،وکلا، عمائدین شہر،مختلف شیعہ ۔سنی تنظیموں کے نمائندے اور بڑی تعداد میں غیر مسلم صاحبان بھی موجود تھے۔ الحاج مرزا جاوید مرتضی کا جسد خاکی کل رات گئے سنجئے گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈکل سائنسز سے ان کے والد کی قیام گاہ ’ المرتضی‘ واقع بارود خانہ گولہ گنج لایا گیا۔ جہاں افراد خاندان ،عزیز و اقربا نے شب بھر قران خوانی کی اور صبح ان کا جنازہ تاریخی کربلائے ملکہ جہاں لے جایا گیا جہاں غسل، نماز جنازہ کے بعد مرحوم کی تدفین عمل میں آئی۔ الحاج مرزا جاوید مرتضی کے اس جہاں سے اٹھ جانے کو ایک دور خاتمہ کہا جا رہا ہے۔ الحاج جاوید مرتضی نے دینی و قومی مسائل میں اصولی رخ اختیار کیا،انہوں نے جہالت پر علم کو ترجیح دی اور کبھی باطل طاقتوں کے آگے سپر انداختہ نہ ہوئے۔ مرزا جاوید مرتضی نے تصنیف و تالیف کے میدان میں نمایاں کارنامے انجام دئے اور مختصر سے دور میں انہوں نے متعدد کتابوں کی تصنیف کی۔جاوید مرتضی کی علمی بصیرت کی بنا پر اہلیبیت کے ایک سچے خادم کی طرح سے کبھی چو طرفہ حملوں کی فکر نہیں کی اور اپنی بات و موقف کو سختی سے ظاہر کرتے رہے۔ مرزا جاوید مرتضی کی زندگی قومی و دینی مسائل کو حل کرنے اور عزاداری کو بحال کرنے کی سمت میں ایک شاندار رکارڈ ہے۔ وہ عزاداری کے لئے متعدد بار جیل گئے اور انہوں سخت دباو کے باوجود شکست نہیں تسلیم کی۔