اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سکھر بیراج پہنچ گئے، صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو، شرجیل میمن و دیگر وزراء بھی وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ تھے۔ اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ سندھ کو سکھر بیراج اور سیلابی صورتِ حال پر بریفنگ دی گئی۔
دریں اثناء وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سب سے پہلے ہمیں مال مویشی کو بچانا ہے، اس وقت ہمیں گڈو اور سکھر بیراج کو بچانا ہے، ہمیں اندازہ لگانا ہے کہ کتنا پانی ایک وقت میں آئے گا، سب سے پہلے چناب اور جہلم کا پانی تریموں بیراج پر آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ تریموں سے 4 لاکھ 45 ہزار کیوسک پانی گزرا ہے، ہمارا اندازہ ہے کہ آج رات کو تریموں پیک پر ہو گا، دریائے سندھ پر اس وقت 2 لاکھ کیوسک پانی چل رہا ہے، 5 سے7 لاکھ کیوسک تک پانی آتا ہے تو کتنے گاؤں ہٹ ہوں گے اس پر کام کر لیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اگر 7 سے 9 لاکھ کیوسک تک پانی آتا ہے تو کافی لوگ اس سے متاثر ہوں گے، ہم نے پاکستان نیوی سے مدد لی ہے، ان کی بوٹس ہوں گی، 192 کشتیاں ہمارے پاس موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ پرائیوٹ کشتیوں کا بھی انتظام کر رکھا ہے، ہماری کوشش ہے کہ ہم کسی بھی جانی نقصان سے بچیں، محکمۂ صحت والے بھی الرٹ ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ متاثرین جتنے دن بھی کیمپس میں رہیں گے ان کو کھانے پینے کی سہولت دی جائے گی، امید ہے کہ یہ پانی یہاں سے جلدی نکل جائے گا، ہمیں اپنے بیراجوں کو محفوظ بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر 10 لاکھ کیوسک کا پانی آتا ہے تو وہ ہم گزار لیں گے، لیفٹ بینک پر شینک بند کا دورہ کیا ہے، ادھر بھی تیاری پوری ہے، کوشش ہے ہم ان بندوں کو بچانے میں کامیاب ہوں گے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ہم پاکستان آرمی سے بھی رابطے میں ہیں، شینک بند کی حالت اس وقت بہتر ہے، ہماری تیاری شینک بند پر پوری ہے، پنجند کے بعد گڈو بیراج پر پانی آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ کے کے بند اور قادر پور شینک بند کا معائنہ کیا ہے، سیلاب کے حوالے سے میں نے بریفنگ لی ہے، سب سے پہلے انسانی جانیں اور لائیو اسٹاک کو بچانا ہے، گڈو اور سکھر بیراج کو محفوظ بنانا ہے۔
وزیرِ اعلی سندھ نے کہا کہ یقینی بنانا ہے کہ بندوں سے پانی کا رساؤ نہ ہو اور شہروں میں داخل نہ ہو، ہمیں اندازہ لگانا ہے کہ سیلاب کا کتنا پانی گزرے گا۔
انہوں نے کہا کہ تریموں سے 4 لاکھ 45 ہزار کیوسک پانی گزرا ہے، تریموں سے پنجند تک پانی پہنچنے میں 3 دن لگیں گے، آج رات کو کسی وقت تریموں پر بہاؤ پیک پر ہو گا۔
ان کا کہنا ہے کہ تریموں کی پیک سے بہتر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ گڈو پر کتنا پانی آئے گا، ہم نے 9 لاکھ کیوسک سپر فلڈ کی تیاری کی ہے، ہم نے اندازہ لگایا ہے کہ 5 سے 7 اور 7 سے 9 لاکھ کیوسک پانی میں کتنے لوگ اور دیہات متاثر ہوں گے، لیفٹ بینک اور رائٹ بینک پر نیوی کی ٹیم پہنچی ہوئی ہے۔
وزیرِ اعلی سندھ نے کہا کہ ہم 948 ریلیف کیمپ پلان کرچکے ہیں، موبائل ہیلتھ یونٹ بھی بھیجے ہیں، سیلاب کے دوران سانپ کاٹنے کے بہت سے واقعات ہوتے ہیں، موبائل ہیلتھ یونٹ سے ابھی بھی لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں، 2010ء میں 11 لاکھ کیوسک کا ریلہ 15 سے 16 دن چلا تھا، 2010ء میں 11 لاکھ 48 ہزار کیوسک گڈو بیراج سے پانی گزار چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کوشش ہے ہم بندوں کو بچانے میں کامیاب ہوں گے، پاکستان نیوی مدد کر رہی ہے، پاک آرمی سے رابطہ میں ہیں، پاک آرمی نے کہا ہے کہ ہر قسم کی مدد کے لیے تیار ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ کے کے بند پر پانی بند کو کاٹ رہا تھا، اسے مضبوط کر رہے ہیں، 19 اگست کو کراچی میں 2 سو ملی میٹربارش ہوئی تو ہمیں محکمۂ موسمیات سے اطلاع نہیں ملی تھی، اس بار ہم اپنی تیاری سپر فلڈ کے حساب سے کر رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ