15 جون 2009 - 19:30

یمن میں اہل تشیع کے قتل عام کے سلسلے میں حوزہ علمیہ کی جمعیت اساتذہ (جامعۂ مدرسین حوزہ علمیہ قم) نے اپنے مذمتی بیان میں اس غیر انسانی عمل کی مذمت کی ہے.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جمعیت اساتذہ نے اپنے بیان میں کہا ہے: یمن کے مسلمانوں اور اہل تشیع کو کچلنے کے سلسلے میں یمنی حکومت اور افواج کے اقدامات ـ جو کثیر تعداد میں مسلمانوں اور خاص طور پر اہل تشیع کی شہادتوں پر منتج ہوئے ہیں ـ اسلامی ممالک میں شدید غم و غصے کا باعث بنے ہوئے ہیں.

اس بیان میں یمن میں بعض عرب ممالک کی مداخلت اور اسلامی کانفرنس کی خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ اہل تشیع کو کچلنے کی نیت سے یمن میں بعض عرب ممالک کی براہ راست مداخلت کے باوجود اسلامی کانفرنس تنظیم، عالمی تنظیموں اور خاص طور پر نام نہاد حقوق انسانی کی تنظیموں کی خاموشی قابل غور اور لمحۂ فکریہ ہے.

حوزہ علمیہ کے بزرگ علماء و اساتذہ نے اپنے اس بیان میں کہا ہے: اس میں شک نہیں ہے کہ موجودہ زمانے میں اسلام دشمن طاقتوں کی ایک سازش نسل کشی اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور تفرقہ کھڑا کرنا ہے اور اسی راہ پر چل کر وہ در حقیقت اسلام عزیز کی بیخ کنی چاہتے ہیں اور یہ اعمال رسول اللہ (ص) اور اہل بیت نبی (ص) کے لئے صدمے  اور ان کی دل آزاری کا سبب بن رہے ہیں.

جامعۂ مدرسین نے ان خونی واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسلامی کانفرنس تنظیم سے مطالبہ کیا ہے کہ یمن کے تنازعات کو حل کرنے اور یمن کے مظلوم شیعیان اہل بیت (ع) کے قتل عام کا سد باب کرنے کے لئے ضروری اقدامات کا اہتمام کرے. اور دنیا کے آزاد اندیش لوگوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ اس وسیع انسان کشی کی شدید مذمت کرکے ان مظالم کے خلاف موقف اپنائیں.