سید حسن نصراللہ نے سب سے پہلی شہادت پسندانہ کارروائی انجام دینے والے احمد قصیر کے یوم شہادت کی مناسبت سے تقریر کرتے ہوۓ صہیونی ریاست کی دشمنی کی جانب اشارہ کیا اور لبنان پر حملے کی صہیونی ریاست کی دھمکیوں کو نفسیاتی اور تشہیراتی جنگ قرار دیتے ہوۓ کہا کہ یہ نفسیاتی جنگ نہ صرف اسرائیل کے کسی کام نہیں آئے گی بلکہ اس سے لبنانیوں کے اندر اتحاد پیدا ہوگا۔
سید حسن نصراللہ نے صہیونی ریاست کے ساتھ فلسطین کی خود مختار انتظامیہ کے مذاکرات کی جانب بھی اشارہ کیا اور کہا کہ صہیونیوں کے ساتھ اٹھارہ برس تک مذاکرات کا نہ صرف کوئي فائدہ نہیں ہوا ہے بلکہ ان مذاکرات کا نتیجہ اس ریاست کا قبضہ برقرار رہنے کی صورت میں نکلا ہے جبکہ لبنان میں استقامت کے نتیجے میں صہیونی ریاست کے قبضے سے بیروت سمیت لبنان کے بہت سے علاقے آزاد ہوگئے ہیں۔
سید حسن نصراللہ نے اسلامی اور عرب ممالک کو درپیش مسائل اور خطرات کے کا مقابلہ کرنے کے لئے ان ممالک کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ۔
سید حسن نصراللہ نے اسرائيلی کے اس دعوے کی تردید کی کہ حزب اللہ مقبوضہ فلسطین میں منشیات کا کاروبار کر رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ جب رہبر انقلاب اسلامی فرماتے ہیں کہ ایٹمی ہتھیار بنانا حرام ہے تو یہ کوئي سیاسی بیان نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد شریعت پر استوار ہے اور میں بھی کہتا ہوں کہ حزب اللہ پر لگائے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور ہماری دینی تعلیمات کے مطابق حتی دشمنوں کے ساتھ بھی منشیات کی تجارت کرنا حرام ہے۔