15 جون 2009 - 19:30

عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ وہ انتخابات کے دوسرے مرحلے سے دستبردار ضرور ہوئے ہيں مگر انھوں نے انتخابات کا بائیکاٹ نہيں کیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کےدوسرے مرحلے کے انتخابات میں عبداللہ عبداللہ کی جانب سے شرکت نہ کرنے کے فیصلے کے بعدافغانستان کے الیکش کمیشن نے حامد کرزائی کو افغانستان کا دوبارہ صدر منتخب کرلیا ہے۔

افغانستان کے الیکشن کمیشن کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ الیکشن کمیشن پہلے مرحلے میں ہی اکثریتی ووٹ حاصل کرنے والے صدارتی امیدوار حامد کرزئی کو افغانستان کا منتخب صدر قرار دیتا ہے.

الیکشن کمیشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ دوسرا مرحلہ منسوخ کرنے کا مقصد اخراجات بچانا اور دیگر نقصانات سے بچنا تھا. یاد رہے کہ یہ فیصلہ حامد کرزئی کے مخالف امیدوار عبداللہ عبداللہ کی جانب سے صدارتی الیکشن سے دستبرداری کے بعد کیا گیا ہے . 

خیال رہے کہ حامد کرزئی صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کے واحد امیدوار تھے کیونکہ ان کے حریف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے انتخاب کے دوسرے مرحلے میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا ۔

مختلف ممالک کے ذرائع ابلاغ نے دعوی کیا تھا کہ عبداللہ عبداللہ نے انتخابات کے دوسرے مرحلے کا بائیکاٹ کیا ہے مگر ڈاکٹرعبداللہ عبداللہ کہ کہنا ہے کہ انھوں نے صدارتی انتخابات کا بائيکاٹ نہيں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ انتخابات کے دوسرے مرحلے  سے دستبردار ضرور ہوئے ہيں مگر انھوں نے انتخابات کا بائیکاٹ نہيں کیا ہے۔

عبداللہ عبداللہ نے سے این این کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات میں شرکت افغان عوام کا حق ہے اور وہ عوام کو اپنا حق استعمال کرنے سے محروم نہیں کرنا چاہتے۔

افغانستان کے سابق وزیرخارجہ نے کہا کہ انتخابی عمل سے الگ ہونے کا فیصلہ میرا ذاتی فیصلہ ہے مگر ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنا افغان عوام کا حق ہے۔

قبل ازیں کابل میں عبداللہ عبداللہ کے حوالے سے ایک بیان جاری ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ انتخابی کمیشن کے سربراہ کوبرطرف کئے جانے سمیت بعض شرطیں پوری نہ کئے جانے کی بنا پر صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے سے دستبردارہوئے ہيں ۔

تا ہم  انھوں نے اپنے انٹرویو میں اپنے حامیوں سے اپیل کی تهی کہ وہ انتخابات کے دوسرے مرحلے کا بائیکاٹ نہ کریں۔