15 جون 2009 - 19:30

ایرانی وزیر داخلہ جنرل نجار نے بھی کہا ہے کہ ایک بلندپایہ ایرانی وفد بہت جلد پاکستان کا دورہ کرنے والا ہے جو موجودہ ثبوت پاکستانی حکام کے سامنے رکھے گا.

ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان کے علاقے پیشین میں خود کش حملہ آور نے اس وقت خود کو دھماکے سے اڑالیا تھا جب وہاں پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے کمانڈرز اور قبائلی عمائدین کا اجلاس شروع ہورہا تھا۔

اہل البیت نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق 

دھماکے میں پاسدارانِ انقلاب کے دو سینیئر کمانڈروں سمیت سپاه کے 12 اہلکار اور شیعہ اور سنی قبائلی عمائدین سمیت 35 افراد موقع پر جام شہادت نوش کرگئے تھے. اس کے بعد اسپتالوں میں زیر علاج 14 مزید افراد زخموں کی تاب نہ لاکر شہید ہوگئے. 

خود کش حملے کے بعد ایران نے پاکستانی سفارتکار کو طلب دفتر خارجہ طلب کر لیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کاکہنا ہے ہے کہ پاکستان کے سفارت کار کی طلبی کا مقصد حملے پراحتجاج ریکارڈ کرانا ہے،ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق اس بات کے شواہد ہیں کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے، پاکستان کے سینیر سفارت کار نے ایرانی حکام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران کے ساتھ مشترکہ سرحدوں کو محفوظ بنانے کیلئے پاکستان ہرممکن اقدام کرے گا۔

میڈیارپورٹس کے مطابق عبدالمالک ریگی کے دہشت گرد ٹولے نے حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے جبکہ ایرانی انقلابی گارڈز کا کہنا ہے کہ وہ اس خودکش حملے کا سخت جواب دیں گے۔

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کی ہدایت پردھماکے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے جبکہ پاکستان میں ایران کے سفیر ماشا اللہ شاکری نے جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاسداران انقلاب پر حملے میں جند اللہ ملوث ہے جس کے لیڈر نے پاکستان میں پناہ لی ہوئی ہے۔

گو کہ پاکستان نے اس الزام کو مسترد کردیا ہے اور دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے افسوس کا اظہار کیا ہے مگر سپاہ پاسداران کے کمانڈرانچیف نے کہا ہے کہ ان کے پاس ایسے ثبوت موجود ہیں جن سےامریکی، برطانوی اور پاکستانی خفیہ ایجنسیون سے مذکورہ دہشت گرد ٹولے کے قریبی تعلقات اور تعاون کا اظہار ہوتا ہے.

ایرانی وزیر داخلہ جنرل نجار نے بھی کہا ہے کہ ایک بلندپایہ ایرانی وفد بہت جلد پاکستان کا دورہ کرنے والا ہے جو موجودہ ثبوت پاکستانی حکام کے سامنے رکھے گا.