اہل البیت نیوز ایجنسی _ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یمن کے شیعہ مجاہدین نے یمن کے شمالی علاقوں کے باشندوں اور سرکاری ظلم و ستم، قتل عام سے تنگ آنے والے عوام اور حوثیوں کے حامیوں کی مدد سے المنبہ پر حملہ کیا. یہ علاقہ سعودی سرحد کے بالکل قریب ہے جو اس وقت مجاہدین کے کنٹرول میں ہے.
یہ عوامی اقدام کل صبح کو شروع ہوا جب مجاہد قوتوں نے المنبہ کے علاقے سے وابستہ سرکاری عمارتوں پر قبضہ کیا. کہا جاتا ہے کہ ابتدا میں آزاد کرائی جانے والی عمارتوں میں ایک اذیت گاہ بھی ہے جہاں عوام کو گرفتار کرکے اذیتیں دی جاتی تھیں. یہ علاقہ اس لئے بہت اہم ہے کہ یہ سعودی سرحد کے بالکل قریب واقع ہے اور سعودی عرب یمنی صدر علی عبداللہ صالح کا حلیف اور شمالی یمن کے شیعیان اہل بیت (ع) کے قتل عام میں برابر کا شریک ہے. اور حال ہی میں حوثی مجاہدین نے سرکاری افواج سے پکڑا جانے والا اسلحہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو دکھایا جن پر سعودی افواج کے نشان کندہ تھے. اس علاقے پر مجاہدین کا قبضہ ہونے کے بعد سعودی عرب کے لئے اب (اس علاقے سے) یمن کی سرکاری افواج کے لئے ہتھیار، گولہ بارود اور دیگر وسائل روانہ کرنا ممکن نہیں رہے گا اور سعودی حکمران (کم از کم اس سرحدی علاقے سے) اہل تشیع کے خلاف دہشت گردی کی کاروائیاں کرانے کی غرض سے مزید القاعدہ دہشت گرد بھی یمن میں نہیں بھیج سکیں گے.
حوثی مجاہدین کے ہاتھوں میں قید یمنی فوجی افسران نے بھی اپنے اعترافات میں کہا ہے یمن کے اہل تشیع کے خلاف علی عبداللہ صالح کے مجرمانہ اقدامات میں سعودی عرب اصلی محرک کا کردار ادا کررہا ہے اور اس مسئلے میں سعودی مداخلت نہایت سنجیدہ ہے.
سعودی عرب کے علاوہ مصر اور امریکہ بھی حوثی مجاہدیں اور یمنی اہل تشیع کے قتل عام کے حوالے متفق الرائی ہیں اور کئی دیگر مغربی ممالک نے بھی حال ہی میں اسی سلسلے میں علی عبداللہ صالح کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور شیعہ نسل کشی کے لئے جواز پیدا کرنے کی غرض سے مصری وزیر خارجہ نے بھی ذرائع ابلاغ کے ساتھ بات چیت میں ایک عجیب دعوی کیا ہے اور وہ یہ کہ "یمن کے اہل تشیع القاعدہ کے ساتھ متحد ہوگئے ہیں اور دونوں کا مقصد یمنی حکومت کو نقصان پہنچانا ہے".
یادرہے کہ امریکہ بھی بار بار یہی دعوی کرتا رہا ہے اور اسی بہانے اپنے فوجی افسران اور سازوسامان یمن بھیجتا رہا ہے. اس وقت امریکہ کے متعدد فوجیوں سمیت کئی اعلی فوجی افسران بھی یمن میں ـ القاعدہ کے خلاف لڑنے کے بہانے ـ شیعہ مجاہدین کے خلاف سرکاری افواج کو مدد فراہم کررہے ہیں.