15 جون 2009 - 19:30

سعودی حکمران شیعیان اہل بیت (ع) دباؤ دال رہے ہیں کہ اہل تشیع نماز باجماعت ادا نہ کیا کریں!

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکمران ـ حالیہ مہینوں کے دوران منطقةالشرقیہ کے شہر الخُبَر میں پانچ شیعہ مساجد سیل کرنے کے بعد دیگر علاقوں میں بھی _ اہل تشیع کو نماز با جماعت ادا کرنے سے روک رہے ہیں.

اس رپورٹ کے مطابق شیعہ مساجد کی بندش کے بعد اہل تشیع نے ایک خیمہ برپا کرکے اس میں نماز باجماعت ادا کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا تھا مگر سعودی پولیس کے کرائم برانچ نے الخبر کے علاقے «الجسر» میں واقع اس خیمے کو اٹھانے کے لئے شیعہ راہنما حاج «عبداللہ صالح المہنا» پر دباؤ ڈالنا شروع کیا ہے. یہ خیمہ ماہ مبارک رمضان میں بپا کیا گیا ہے اور ماہ رمضان کے دوران نماز باجماعت اور عیدالفطر کے روز نماز عید کی ادائیگی کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے.

قابل ذکر ہے کہ الخبر شہر میں دسیوں ہزار شیعیان اہل بیت (ع) سکونت پذیر ہیں جنہیں حتی اپنے مکتب کے احکام کے مطابق نماز پڑھنے اور اپنی مساجد میں نماز جماعت ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی. یہ البتہ الگ بات ہے کہ کیا سعودی سلطنت اتنی کمزور اور ٹوٹتی پھوٹتی صورت حال سے دوچار ہے کہ اس کو اہل تشیع کی نماز با جماعت تک سے خطرہ لاحق ہوتا ہے.