اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حوزہ علمیہ قم کے استاد اور تقریب بین المذاہب اسلامی کے سیکریٹری جنرل آیت اللہ ڈاکٹر محسن اراکی کہتے ہیں:
جو کردار داعش نے سنی اسلام پر دھبہ لگانے کے لئے ادا کیا وہی کردار شیرازی فرقے کو بھی سونپ دیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر شیعہ اسلام کو داغدار کردے اور ساتھ ساتھ اہل سنت کو بھی شیعہ مکتب کی دشمنی پر اکسا دے.
سید حسن نصراللہ فرماتے ہیں: "تکفیری صہیونیوں سے زيادہ تشدد پسند اور خونخوار ہیں، اور لندنی غالی شیعہ دونوں سے زیادہ خطرناک ہیں"۔
آیت اللہ ڈاکٹر محسن اراکی جنہوں نے شیرازی ـ انگریزی فرقے پر وسیع تحقیق کی ہے ـ نے مورخہ 31 اگست 2015 کو مہر نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:
"جس وقت میں برطانیہ میں تھا، مجھے رپورٹ ملی کہ برطانوی حکومت بہت سے سنی اور شیعہ نوجوانوں کو جاسوسی کے لئے بھرتی کررہی ہے۔ میں ان دنوں کچھ اکیڈمک معاملات کے سلسلے میں جامعات میں جاتا رہتا تھا۔ میں نے ان جامعات کی مسجدوں میں کچھ منظم افراد کو دیکھا جن کو برطانوی حکومت کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔ میرا مطلب ہے کہ برطانوی حکومت مشرقی ممالک میں اثر و نفوذ کے حوالے سے طویل تجربہ رکھتی ہے؛ چنانچہ اس طرح کے پروگراموں کی بنیادی منصوبہ بندی انگریز سرکار ہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے؛ اور انگریزی تشیّع سے مراد بھی یہی ہے۔ یعنی وہ تشیّع جو انگریز کی منصوبہ بندی اور انتظام کے تحت جاسوسی اداروں کا حصہ بنیں اور انگریزی حکومت ان کی مالی اور تشہیری مدد کرے۔ انگریزی تشیع سے مراد ان شیعوں میں میں سے ہیں جو برطانیہ میں رہتے ہیں؛ میری بات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ برطانیہ میں رہنے والے سارے شیعہ انگریزی شیعہ ہیں کیونکہ برطانیہ میں بہت اچھے شیعہ رہتے ہیں اور جب انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ کچھ لوگوں کو انگریز سرکار کے سیاستدانوں کی حمایت حاصل ہوئی ہے، تو وہ انہیں دکھ پہنچتا ہے"۔
آیت اللہ اراکی یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ شیرازی فرقہ ـ سیاسی سے دوری اور خالص مذہبی ہونے کا نعرہ لگانے کے باوجود ـ ایک سیاسی جماعت ہے اور اس کو مغربی ممالک، اسرائیل اور حتی کہ سعودی عرب کی طرف سے ہمہ جہت مالی اور تشہیری امداد فراہم کی جاتی ہے۔
ان کا کہنا ہے: "معاشرتی مقبولیت کے لحاظ سے اس فکر کے حامیوں کا رتبہ بہت ہی کمزور ہے؛ لیکن یہ بہت خطرناک ہیں اس لئے کہ انھوں نے ایک ابلاغی سلطنت قائم کی ہے۔ انہیں مغرب کی پشت پناہی میں 20 سے زائد ٹی وی چینلز کی سہولت حاصل ہے۔ آپ نے سنا ہوگا کہ کسی وقت امریکی کانگریس نے اسلامی جمہوریہ ایران کا مقابلہ کرنے کے لئے کئی کروڑ ڈالر کا بجٹ منظور کیا جس کے فوری بعد شیرازی فرقے کے متعدد ٹی وی چینلز کا افتتاح منظر عام پر آیا۔ کچھ امریکی حکام نے بڑے کھلے انداز سے اعلان کیا کہ "ہمیں شیعہ معاشروں کے درمیان انتہاپسند افکار کو ترویج دینا اور ان کی حمایت کرنا ہوگی"۔ آج 20 سے زائد ٹی وی چینلز اس فرقے کے ہاتھ میں ہیں جو انگریزوں، امریکیوں اور یہودی ریاست کے مقاصد کے لئے کام کررہے ہیں۔ ان کے خطرناک ہونے کی دوسری صورت یہ ہے کہ ایک ایک منظم جال (نیٹ ورک) کے طور پر کام کرتے ہیں اور تیسری صورت یہ ہے کہ بیرونی قوتیں بہت ہی وسیع سطح پر ان کی مالی مدد کررہی ہیں"۔
حال ہی میں لاس اینجلس میں مقیم اسلامی انقلاب کے مخالف اور شہنشاہیت کے حامی اور ابلاغیات کے شعبے کے سرگرم کارکن "شہرام ہمایون" نے یورپ میں سرگرم سیٹلائٹ چینلز کے حقائق طشت از بام کرتے ہوئے کہا: "لندن میں تعینات مذہبی چینلز کی مالی سرپرست کمپنی اسرائیلی ہے"۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابو اسد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲