اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ فلسطینی عوام کی استقامت و مزاحمت کے خلاف فلسطینی انتظامیہ کے دشمنانہ فیصلوں کا سلسلہ جاری ہے اور اس تناظر میں فلسطینی انتظامیہ نے غرب اردن کے عوام کو غیر مسلح کرنے کی پالیسی پر عمل شروع کر دیا ہے-
فلسطینی انتظامیہ نے غرب اردن کے عوام کو غیر مسلح کرنے کے لئے ان ہتھیاروں کو جمع کرانے کے ایجنڈے پرعمل درآمد شروع کیا ہے جن کے لائسینس نہیں ہیں- اس پروگرام پر عمل درآمد سے فلسطینی عوام میں کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے- فلسطینی انتظامیہ کی پولیس نے تاکید کی ہے وہ ہتھیاروں کو جمع کرنے کے لئے گھروں کی تلاشی کے پروگرام پرپوری طرح عمل کرے گی تاکہ ان ہتھیاروں کو اکٹھا کرسکے جو عوام اور فلسطینی تحریکوں کے ہاتھوں میں ہیں- فلسطینی گروہ، ہمیشہ ہی نام نہاد فلسطینی انتظامیہ اور غاصب صیہونی حکومت کے درمیان سیکورٹی تعاون پر تنقید کرتے رہے ہیں اور اس سیکورٹی تعاون کو صیہونیت مخالف کارروائیوں میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں-
قابل ذکر ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کی جیلیں، مختلف استقامتی و مزاحمتی گروہوں کے مجاہدین سے بھری ہوئی ہیں کہ جنھیں فلسطینی انتظامیہ نے صیہونیت دشمن کارروائیاں انجام پانے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا-
مشرق وسطی میں ساز باز کے عمل اور اوسلو معاہدے کے بعد فلسطینی انتظامیہ کی کارکردگی کا جائزہ لینے سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اس انتظامیہ کی سرگرمیوں کا مقصد صرف صیہونی حکومت کی توسیع پسندانہ ، سرکوب گرانہ اور تفرقہ انگیز پالیسیوں کو آگے بڑھانا ہے-
انیس سو ترانوے میں صیہونی حکومت اور پی ایل او کے درمیان ہونے والے اوسلو معاہدے پر دستخط ہوئے اور اس کے بعد انیس سو چورانوے میں فلسطینی انتظامیہ کہ جس کے پاس نہایت معمولی اختیارات ہیں ، عملی طور پر وجود میں آئی-
اس بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ نام نہاد فلسطینی انتظامیہ کا وجود ساز باز کے عمل کے نتیجے میں سامنے آیا اور اسی بنا پر اسے ملت فلسطین کے درمیان کوئی مقبولیت اور قانونی حیثیت حاصل نہیں رہی ہے-
فلسطینی انتظامیہ کی جانب سے سرگرم سیاسی شخصیتوں کی بڑے پیمانے پرگرفتاری کے سلسلے ، صیہونیت مخالف مزاحمت کو غیر مسلح کرنے اور فلسطین کے سیاسی میدان میں مرکزگریز کردار ادا کرنے کی بنا پر یہ انتظامیہ ، فلسطنیوں کے درمیان اتحاد کی تشکیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور یہی اس انتظامیہ کے خلاف فلسطینی عوام کی مزید نفرت و بیزاری کا باعث بنی ہے-
نام نہاد فلسطینی انتظامیہ کی اقتدار پسندی کے ساتھ ہی ساتھ اس کی انحصارپسندی سے پتہ چلتا ہے کہ یہ انتظامیہ طاقت و حکومت کے حصول اوراس پر قابض رہنے کے لئے فلسطینی مقاصد کو تباہ و برباد کرنے میں ذرا بھی ہچکچا ہٹ نہیں رکھتی - فلسطینیوں کا خیال ہے کہ اگر فلسطینی انتظامیہ فلسطینی عوام کے درمیان کچھ مقام بنانا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ اپنے رویے پر نظرثانی اور فلسطین کے سیاسی میدان میں مرکزگریز اور انحصارپسندانہ پالیسیوں سے اجتناب کرتے ہوئے صیہونی حکومت کے مقابلے میں فلسطینی عوام کی استقامت کے ہمراہ ہو جائے-
فلسطینی عوام ، مزاحمت کے ثمرات کے پیش نظر کہ جس نے صیہونی حکومت کو گذشتہ برسوں میں متعدد شکستوں سے دوچار کیا ہے ، اپنے اہداف کے حصول کا واحد راستہ ، صیہونی حکومت کے سامنے استقامت و مزاحمت جاری رکھنے میں سمجھتے ہیں- دوہزارپانچ میں غزہ کے علاقے سے صیہونی حکومت کو پسپائی پر مجبور کرنے اور گذشتہ برسوں میں اس حکومت کو غزہ کے خلاف تین جنگوں میں شکست سے دوچار کرکے ثابت کردیا کہ صرف مزاحمت ہی ہے جو فلسطینی عوام کی سربلندی اور ان کے مقاصد کو عملی جامنہ پہنا سکتی ہے -
تحریک انتفاضہ کو جاری رکھنے کے فلسطینیوں کے عزم محکم سے پتہ چلتا ہے کہ نام نہاد فلسطینی انتظامیہ کی جانب سے فلسطینی عوام کی تحریک انتفاضہ روکنے کے لئے صیہونی حکومت کی خدمات بھی فلسطین میں صیہونیت مخالف مزاحمت جاری رکھنے میں کوئی خلل نہیں ڈال سکتی -
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲