29 اگست 2016 - 12:05
فرانس میں برقینی کے ساتھ سمندر میں سوئمنگ کرنے پر تنازعہ

فرانس میں عدالت کی جانب سے اسکارف اور کوٹ کی شکل کے برقینی لباس پہن کر مسلمان خواتین کو سمندر میں سوئمنگ کرنے کی اجازت دیئے جانے کے بعد ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق پچھلے ہفتے فرانس کی عدالت نے خواتین کے سمندر میں برقینی پہن کر نہانے یا تیراکی کرنے پر عائد پابندی کو ختم کر دیا تھا لیکن فرانس کے شہر ریویرا کے میئر کا کہنا ہے کہ برقینی کے ساتھ سمندر میں نہانے پر پابندی کے قانون سے ملک کے سیکولر نظام کا دفاع ہوتا ہے- برقینی، تیراکی اور سمندر میں نہانے کا ایک لباس ہے جو صورت کو چھوڑ کر عورت کے جسم کے تمام اعضاکو ڈھانپے رہتا ہے اور یوں مسلمان خواتین سمندر میں اسلامی حجاب میں رہ کر سوئمنگ کر سکتی ہیں-
فرانسیسی عدالت نے برقینی کے ساتھ سمندر میں نہانے پر عائد پابندی کو ہٹانے کے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ یہ پابندی واضح اور سنجیدہ طور پر بنیادی حقوق اور عقائد کی آزادی کی خلاف ورزی ہے- انسانی حقوق کی تنظیموں ہیومن رائٹس لیگ اور اینٹی اسلامو فوبیا ایسوسی ایشن، سی سی آئی ایف نے اس پابندی پر عدالت کی توجہ دلائی تھی- اس سے پہلے برقینی کے ساتھ سمندر میں سو‏ئمنگ یا نہانے پرعائد پابندی کے بارے میں حکومت فرانس کا کہنا تھا کہ یہ اقدام خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے کیا گیا ہے- اس درمیان چند روز قبل ایک تصویر سامنے آئی جس میں دکھایا گیا کہ فرانس کی پولیس، ساحلی شہر نیس میں سمندر کے کنارے ایک مسلمان خاتون کا برقینی لباس، زبردستی اتروا رہی ہے اور اس کو جرمانہ کر رہی ہے- ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ اس سے بھی زیادہ دردناک منظر یہ تھا کہ وہاں موجود دیگر لوگ پولیس کے اس اقدام کی حمایت کر رہے تھے- فرانس ان مغربی ملکوں میں سے ایک ہے جہاں سرکاری اداروں اور کالجوں میں مسلمان خواتین اور طالبات کے پردے پر طرح طرح کی پابندیاں عائد رہی ہیں اور اسلامو فوبیا کو ہوا دینے میں بھی فرانس ہمیشہ پیش پیش رہا ہے-

۔۔۔۔۔۔۔

/169