اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ثقافتی انقلاب کی اعلیٰ کونسل کے رکن رحیم پور ازغدی نے لندنی تشیع کی حقیقت کے موضوع پرمنعقدہ قومی سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے خطے کے اکثرممالک اپنے آپ کے اسلامی ہونےکا دعویٰ نہیں کرتے تھے لیکن انقلاب کی کامیابی کے بعد انہوں یہاں تک کہ مشرقی اورمغربی ممالک نے اسلام شناسی کا دعویٰ کردیا تھا۔
انہوں نےمزید کہا ہے کہ اسلام کے دشمنوں نے اسلام کے نام پر بہت زیادہ عروج کرتے ہوئے اپنے مفادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے، اس وقت وہابیت کے توسط سے اہل سنت کے بہت سے علماء کوقتل کیا جاچکا ہے۔
رحیم پورازغدی نے کہا ہےکہ شیعہ اورسنی کے مسئلے کو چھیڑنے کا مقصد عالمی استعمارکے مفادات کو پورا کرنا ہے، اس وقت چند انجمنوں اوراشخاص پر جھگڑا نہیں ہے۔
انہوں نےمزید کہا ہے کہ انگلستان سے پہلے بھی لندنی شیعہ موجود تھے جس طرح کہ امریکہ سے پہلے امریکی اسلام موجود تھا،لندنی شیعہ ایک ایسا تفکرکا نام ہےکہ جنہوں نے امیرالمومنین علی علیہ السلام،امام حسن علیہ السلام اورامام حسین علیہ السلام کو مختلف جنگوں اورکربلا میں تنہا چھوڑ دیا تھا۔
انہوں نےکہا ہے کہ لندنی شیعہ جہاد کے وقت مختلف بہانے بنا کرفرارکرجاتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک تشیع کا مطلب دنیا پرستی اورنفس پرستی ہے۔
رحیم پورازغدی نے کہا ہےکہ جو لوگ مسلمانی کا دعویٰ کرتے ہیں ان سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے یہاں تک کہ ظالم حکمران جیسے اوباما بھی مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اورمسجد میں جاتے وقت جوتے اتاردیتے ہیں کہ جس طرح یزید لوگوں کے سامنے خطبہ جمعہ دیا کرتا تھا۔
انہوں نےمزید کہا ہےکہ لندنی تشیع کا ہدف یہ ہے کہ وہ اسلامی بیداری کی تحریک کو کچل دیں کیونکہ وہ عملی لحاظ سے سیکولرہیں کہ جن کا ظاہرتو روشن خیال افراد کے خلاف ہے لیکن باطن ان کے ساتھ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169