اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے یان کوبیچ نے کہا ہے کہ شمالی عراق کے شہر موصل کے قریب اپنی فوج کو باقی رکھنے پر ترک حکومت کے اصرار کی وجہ سے اس معاملے کو حل کرنے کی سبھی سفارتی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں - انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں ترکی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ شمالی عراق میں ترک فوجیوں کی تعیناتی کا مقصد ترکی کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے - دوسری جانب اقوام متحدہ میں عراق کے نمائندے نے کہا ہے کہ عراقی حکومت ترک فوج کی عراق کے اندر موجودگی کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دے گی - عراقی مندوب کا کہنا ہے کہ بغداد کا موقف واضح ہے کہ ترک فوجیوں کو عراق سے نکلنا ہی ہوگا - واضح رہے کہ ترکی نے گذشتہ برس ستمبر میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے بہانے اپنے دسیوں فوجیوں کو ٹینکوں اور بکتر بندگاڑیوں کے ہمراہ عراق کے شمالی علاقے میں اتار دیا تھا اور وہ اب بھی وہاں تعینات ہیں - عراقی حکومت نے ترکی کے اس جارحانہ اقدام کی شدید مخالفت کی ہے - عراقی حکومت ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عرب لیگ کی جانب سے ترکی کے اس اقدام کی مخالفت اور ترک فوجیوں کے وہاں سے نکل جانے پر مبنی متعدد بیانات کے باوجود ترکی نے شمالی عراق سے اپنی فوج نہیں نکالی ہے - ترکی کی حکومت کا کہنا ہے کہ موصل شہر کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزادا کرنے کی کارروائیوں میں اس کی فوج شرکت کرنا چاہتی ہے لیکن عراقی حکومت نے ترکی کی اس درخواست کو مسترد کردیا ہے - عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ موصل کو آزاد کرانے کے لئے عراق کو کسی بھی غیر ملکی فوج کی مدد کی ضرورت نہیں ہے -
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲