20 فروری 2016 - 17:31
پوپ فرانسسز نے مصنوعی طریقہ تولید کی حمایت کرکے ویٹیکن میں ھلچل مچادی

پاپائے روم یعنی عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فراسسز نے زیکاوائرس سے متاثرہ ممالک میں حمل سے بچنے کے لئے مصنوعی طریقہ تولید کو جائز قرار دیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق پاپائے روم یعنی عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فراسسز نے زیکاوائرس سے متاثرہ ممالک میں حمل سے بچنے کے لئے مصنوعی طریقہ تولید کو جائز قرار دیا انہوں نے کہا کہ حمل گرانے سے بہتر ہے عورتیں حاملہ ہی نہ ھوں. پوپ فرانسسز نے کہا کہ دو برائیوں میں سے چھوٹی برائی کو اپنانا بہتر ہے. اگرچہ مصنوعی طریقہ تولید کو عام حالات میں قابل قبُول قرار نہیں دیا جاسکتا مگر زیکا وائرس کے خطرے سے بچنے کے لئے مصنوعی طریقہ بہتر ہے اس سے کم سے کم خواتین اسقاط حمل سے تو بچ جائیں گی.جو میرے نزدیک ابارشن یعنی حمل گرانے کے مقابلہ میں بہت بہتر ہے.پوپ فرانسسز کے اس اظہار خیال پر بڑی حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے کیونکہ کلیسا چرچ میں مصنوعی طریقہ تولید یعنی Artificial Contraception کو کسی بھی حالت میں احسن نہیں سمجھا جاتاہے. انہوں نے لاطینی امریکہ کے دورے کے موقع پر رپورٹرز سے آن بورڈ(اپنے طیارے)گفتگو کرتے ھوئے انہوں نے سابق پاپائے رُوم پوپ جان پال کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 60کے عشرے میں انہوں نے بیلجئین کانگو میں نن کو آبروریزی کے نتیجے میں حمل سے بچنے کے لئے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ھدائت کی تھی.اور اس ممکنہ اقدام کی باقائدہ منظوری بھی دی تھی.پوپ فرانسسز نے متنازعہ آپشن دینے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز پر زور دیا کہ فوری طور پر زیکاوائرس کی روک تھام کے لئے جلد از جلد مناسب ویکسینیشن دریافت کریں.اور یہ وقت کی اھم ضرورت ہے۔پوپ فرانسسز کی جانب سے زیکا وائرس کے پس منظر میں خواتین کے لئے پیش کردہ آپشن پر تنقید کی جارہی ہے.کیونکہ رومن کیتھولک کی تعلیمات کے مطابق مانع حمل کی کسی طور بھی اجازت نہیں ہے.ادھر برازیل کےسب سے بڑے روحانی پیشوا بشپ لیونارڈو اولرچ سٹینر کا کہنا ہے کہ مانع حمل کو کسی طور بھی حل قرار نہیں دیا جاسکتا اس سلسلےمیں چرچ کی پوزیشن میں قطعا” کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے.پوپ فرانسسز سے قبل سابقہ پونٹنف(Pontiff)پوپ بینڈیکٹ نے ایڈز زدہ سب صحارا افریقہ کے لئے کنڈوم کے استعمال کو ایڈز سے پھیلاؤ کے لئے قابل قبول قرار دیا تھا. واضح رہے کہ چرچ کی تعلیمات میں کنڈوم کے استعمال کو بھی غلط سمجھا جاتا ہے.
۔۔۔۔۔

/169