اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق شام اور عراق میں سرگرم تکفیری دہشتگرد گروہ داعش مالی مشکلات کا شکار ہوتا جارہا ہے جس کے باعث اس نے اپنے جنگجوؤں کی تنخواہوں اور مراعات میں 50 فیصد تک کمی کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق داعش نے اپنے جنگجوؤں کی تنخواہیں نصف کرنے کا فیصلہ اپنے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث کیا ہے۔
داعش کے زیرقبضہ علاقے سے حاصل ہونے والی ایک دستاویز سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ فیصلہ تمام افراد کیلیے کیا گیا ہے، تاہم ان دستاویزات میں تنخواہوں میں کمی کی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے۔
برطانوی و امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ داعش کو مالی مشکلات کا سامنا امریکی حملوں کی وجہ سے کرنا پڑرہا ہے۔ جبکہ یہ پوری دنیا جانتی ہے کہ روس اور ایران کی مداخلت سے قبل داعش کو کبھی بھی مشکل حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ بلکہ روز بہ روز اس کی آمدنی اور اس کے علاقوں میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔
روس، ایران، شام، عراق اور حزب اللہ کے اتحاد کے بعد داعش کی آمدنی کے ذرائع روز بہ روز محدود ہوتے جارہے ہیں جس کی وجہ سے اب اسے مالی مشکلات کا سامنا ہورہا ہے۔ ایک طرف اس پر روس کے حملوں کا دباؤ بڑھتا جارہا ہے جس کی وجہ سے ان کے ٹھکانے اور اسلحے تباہ ہورہے ہیں۔ دوسری طرف سے سعودی عرب کا معاشی بحران بھی داعش کے ذرائع آمدنی کو محدود کررہا ہے۔ نیز روسی حملوں کی وجہ سے ترکی کے ذریعے داعش کے تیل کی اسمگلنگ بھی متاثر ہورہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169