اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
بقلم؛ سید تصور حسین نقوی ایڈووکیٹ (دوسری قسط)
انکی تحریک ریاست کے خلاف نہیں بلکہ آلِ سعود، انکی حکومت اور اُسکی پالیسیوں کے خلاف تھی۔وہ مسلح جدوجہد کے کبھی قائل نہیں تھے بلکہ وہ پْر امن احتجاج اور ڈائیلاگ پر یقین رکھتے تھے۔ شیخ نمر کی جدوجہد اور انکی شہادت کے مسئلے کو ایران سعودی عرب کی عینک سے دیکھنا یا اسے شیعہ سنی عینک سے دیکھنا زیادتی ہے۔ شیخ نمر نے العوامیہ کو نہ تو کبھی عراق کا اٹو ٹ انگ کہا اور نہ ایران کا ۔ بلکہ اگر ویکی لیکس کی رپورٹس کو دیکھا جائے تو یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ دو ہزار آٹھ میں شیخ باقر النمر کی جب امریکہ کے ڈپلومیٹس کے ساتھ ملاقات ہوئی تو انہوں نے وہاں ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو بالکل رد کیا اور کہا کہ میرا ایران کیساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی کسی ایرانی ایجنڈے کے ساتھ تعلق ہے بلکہ میں تو سسٹم کی لڑائی لڑ رہا ہوں۔انکا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے ملک کی جملہ آبادی کو اسکے حقوق نہ دیئے اور ملک میں آزادانہ انتخابات نہ کروائے تو عوام کا احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ وہ مذہبی بنیادوں پر روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک ترک کرنے اور عوام کو انکے مذہبی اور جمہوری حقوق اورسیاسی اور جمہوری اصلاحات کا مطالبہ کرتے رہے۔ شیخ باقر النمر کا جرم یہ تھا کہ وہ سعودی عرب میں اسلام کے منافی نظام ِ بادشاہت کے مخالف تھے اور سعودی عوام کی آلِ سعود کے شکنجہ سے آزادی چاہتے تھے۔ انکاایک جرم یہ بھی تھا کہ وہ دختر ِرسول ۖ اور آلِ رسول ۖ کے روضہ ہائے مقدسہ کی تعمیر کا مطالبہ کرتے تھے۔ وہ فلسطین کے مظلومین کے حامی اور امریکہ و اسرائیل اور انکی مسلم کش پالیسیوں کی مخالفت کرتے تھے۔ وہ دنیا بھر کے مظلومین کی حمایت کرتے تھے اور بحرین پر سعودی جارحیت کے خلاف سراپاء احتجاج تھے۔ وہ شیعہ مسلم اقلیت کو معاشرے کے مرکزی دہارے سے دور رکھے جانے کے خلاف احتجاج کرتے تھے۔شیخ باقر النمر کا جرم یہ تھا کہ وہ آل سعود کے شاہانہ طرزِ عمل اور مذہبی منافرت کی بنیاد پر بنائے جانے والی پالیسیوں کے سخت مخالف تھے۔شیخ نمر اپنے خطبات میں غیر الہی حکومت، مظلوم قیدیوں کی رہائی،ظالمانہ قتل و غارت وتشدد اور ریاستی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز بلند کرتے تھے۔انہیں ان جرائم کی پاداش میں نماز ِجمعہ پڑھانے سے بھی منع کیا گیا اور جس مسجد میں نماز جمعہ پڑھایا کرتے تھے اسے شہید کردیا گیا ۔ دو ہزار تین سے دو ہزار نو تک انہیں بار بار گرفتار کیا گیا اور ہر بار ان پر مساوات، جمہوریت اور حقیقی اسلام کی تبلیغ سے باز رہنے کے لئے دباؤ ڈالا گیا۔ انہیں چھٹی اور آخری بار آٹھ جولائی سنہ دوہزار بارہ میں باقاعدہ منصوبے کے تحت گاڑی پر فائرنگ کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا جسکے نتیجے میں چار گولیاں انکے پاؤں پر بھی لگیں۔ سعودی عرب کی نمائشی اوردرباری عدالت نے پندرہ اکتوبر سنہ دوہزار چودہ کو اس مجاہد ِ عالم دین اور آمریت مخالف رہنما کو اپنے حقوق کی آواز بلند کرنے کی پاداش میں ایک تعزیزی حکم میں موت کی سزا سنائی تھی۔ سعودی عرب میں تعزیزی حکم سے مراد ایسے معاملات ہیں جن میں شریعت نے سزا کا میزان مقرر نہیں کیا اور قاضی کو اختیار دیاہے کہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق حکم جاری کرے۔ سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ نے بڑی ڈھٹائی کیساتھ اپنے جاری کردہ بیان میں اس مجرمانہ اقدام کی توجیح کے لیے قرآن و حدیث اور سنت ِنبوی کا سہارا لیا ۔ آیت اللہ باقر النمرکے خلاف مقدمے کی سماعت کو بھی خفیہ رکھا گیا اور میڈیا کے لوگوں کو بھی اس میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ سعودی ظالم حکومت اور اسکی درباری اور نمائشی عدالت نے تمام تر انسانی اور اخلاقی قدروں کو پامال کرتے ہوئے اس عالم ِ ربانی و مجاہد عالم ِدین اور آمریت مخالف رہنما کو شاہی خاندان پر تنقید، عوام کے حقوق اور انکے برحق مطالبات کی حمایت کی پاداش میںسر قلم کر کے شہید کردیا اور یہ سعودی قیادت میں نام نہاد اتحاد اور آلِ سعود کا پہلا تحفہ ہے جو آیت اللہ شیخ باقر النمر کی شہادت کی صورت میں دیا گیا ہے۔آلِ سعود نے نئے سال کے شروع میں آیت اللہ شیخ باقر النمر کو سزائے موت دیکر یہ پیغام دیا ہے کہ اس نئے سال میں بھی طاغوتی طاقتیں اور قوتیں اپنا خونی کھیل کھیلتی رہیں گی۔ سالِ نو کے آغاز کے موقع پر سنتالیس افراد کا قتل ایک ایسا افسوسناک عمل ہے کہ جسکی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ایک ایسے وقت میں جب انتہا پسند اور تکفیری دہشت گردوں نے اس خطے اور دنیا بھر کے عوام کا چین اور سکون برباد کر رکھا ہے اور خطے کی بعض حکومتوں کے استحکام کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیئے ہیں تو ایسی صورتحال میں آیت اللہ باقر النمر جیسی شخصیت کو سزائے موت دینا انتہائی غیر ذمہ داری اور بد انتظامی کی نشانی ہے۔ سعودی عرب ایک جانب انتہا پسندوں، دہشت گردوں اور تکفیریوں کی حمایت کررہا ہے اور دوسری جانب اندرونِ ملک تنقیدوں کا جواب سزائے موت اور تشدد کی صورت میں دے رہا ہے۔سعودی حکومت سزائے موت کو سیاسی اختلافات، آزادی اظہار رائے اور اپنے حقوق کی جدو جہد کو دبانے کے لیے بطور ہتھیا ر استعمال کرتی ہے۔ سعودی عرب میں جیسے جیسے تحریک مزاحمت زور پکڑ رہی ہے ویسے ہی اپنے آمرانہ اقتدار کو بچانے کے لیے سعودی حکمران دھن دھونس اور جبر سمیت تمام حربے استعمال کررہے ہیں ۔ پورے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں ہو رہی ہیں۔تیس ہزار سے زیادہ لوگ سیاسی قیدی ہیں اور ہر سال سیاسی اختلافات پر سینکڑوں افراد کے سر قلم کر دئیے جاتے ہیں۔ افسوس کہ اس ساری صورتحال پر انسانی حقوق کے چیمپئن خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور انہوں نے اس وحشیانہ انداز ِ حکمرانی پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ بحرین،شام اور یمن کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال اوراب انصاف کے نام پرسیاسی و مذہبی مخالفین کا تہ تیغ کیا جانا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ شائد سعودی عرب کا شاہی خاندان اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے ۔ گذشتہ کئی ایک ماہ کے دوران سعودی عرب کے شاہی خاندان میں اقتدار کی جو کشمکش دکھائی دی وہ اس سے پہلے کبھی منظر ِ عام پر نہیں آئی تھی۔ اس کشمکش کے نتیجے میں اہم حکومتی عہدوں میں بار بار رد و بدل کرنا پڑا۔ وہ آوازیں جو سعود خاندان اپنے مظالم کے ذریعے مدتوں سے دبا رہا تھا اب سنائی دینے لگی ہیں۔
اپنے اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے سعودی عرب کے حکمرانوں کے پاس شائد اسکے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ فرقہ وارانہ تسلط کو مضبوط کریں اور مخالف فرقوں سے تعلق رکھنے والوں کو'' اللہ کے حکم '' پر قتل کرتے چلے جائیں۔ اس حقیقت سے قطعی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آج مسلمانوں میں انتہا پسندی ، دہشت گردی، تفرقہ بازی اور مجموعی زوال کا بنیادی سبب عرب آمر حکمران ہیں جنہوں نے نسل در نسل نحیف انسانیت کا لہو چوسا اور اپنے متشددانہ افکار سے مسلمانوں میں آپس میں نفرت کے بیج بوئے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب بھی ان ظالم بادشاہوں کے خلاف کوئی پُرامن تحریک اُٹھتی ہے تو باقی آمر مل کر اس تحریک کا خاتمہ کردیتے ہیں ۔ ایک معائدے کے تحت حق ِ حکمرانی پانے والے سعودی عرب میں آلِ سعود، قطر میں آلِ ثانی، امارات میں آل نہیان، بحرین میں آلِ خلیفہ اور کویت میں آل صباح خطے میں استعماری طاقتوں کے مفادات کاتحفظ کر رہے ہیں اور مسلمانوں میں قتل و غارت گری اور متشددانہ افکار پھیلا کر تفرقہ بازی پھیلا رہے ہیں ۔ کچھ دن پہلے اس متشددانہ سوچ اور استعماری ایجنڈے پر کام کرنے والے انہی ممالک کے فوجی اتحاد کے قیام کے اعلان پرمیں نے عرض کیا تھا کہ یہ وہ بھونڈا اتحاد ہے جس کا نتیجہ عالم ِ اسلام کی مزید تفریق وتقسیم اوردہشت گردی کے نئے پودوں کی افزائش ، مذہبی اور مسلکی بنیادوں پر ایک دوسرے سے لڑنے کی صورت میں نکل سکتاہے اور یہ ایک ایسا اتحاد ہے جو مستقبل میں شیعہ مسلمانوں سے انداز بدل بدل کر نبرد آزما ہوتا رہے گااور لشکر کی حقیقی منزل شام اور عراق پر لشکر کشی اورشیعہ مسلمانوں پر کاری ضرب لگانا اور ایران کو کمزور کرنے کی بھیانک سازش ہے۔ اب چند ایام میں ہی آلِ سعود کے مذموم عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں ۔ شیخ باقرالنمر سمیت سنتالیس افراد کوسزائے موت دینا اور اسرائیل کو ایران پر حملہ کرنے کے لئے اپنی فضائی اور زمینی حدود کے استعمال کی اجازت دینا ا ور یمن میں ایران کے سفارتخانے پرفضائی حملہ کرکے اسے تباہ کرنا آلِ سعود کے عزائم کی نشاندہی کرتا ہے۔بہت سارے تجزیہ کاروں نے بھی اس بات کا پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے بنائے جانے والے اس اتحاد کا مقصد ایران اور شیعوں کے خلاف محاذ کھولنا ہے، جسکا واضح ثبوت سعودی عرب کی جانب سے نائیجیریا میں نائیجیرین آرمی کی جانب سے اعلانیہ قتل ِ عام پر انہیں مباکباد پیش کرنا اور نائیجیریا میں شیعوں کے قتل ِ عام کو دہشتگردی کے خلاف جنگ سے تعبیر کیا جانا ہے۔آج سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں کے رہنما آیت اللہ شیخ باقر النمراور دیگرشیعہ و سنی مسلمانوں کی شہادت سے مذید واضح ہوگیا ہے کہ آل ِ سعود کے نام نہاد اتحاد کا مقصد اسرائیل و امریکہ مخالف شیعہ و سنیوں کو ختم کرنا ہے۔ شیخ باقر النمر کو شہید کرنے کے دو بڑے مقاصد تھے۔ ایک یہ کہ سعودی عرب میں حق شناس و حق گو افراد اور انکی آوازِ حق کو دبایا جائے اور آل ِ سعود کے اقتدار کو مذید مضبوط کیا جائے اور اسے دوام بخشا جائے۔ دوسرابڑا مقصد آلِ سعود کا دنیا بھر میں مسلمانوں کے درمیان تفرقے و انتشارکی آگ کو بھڑکانا تھا۔ مجھے کامل یقین ہے کہ نہ تو سعودی عرب میں آواز ِحق اور شہنشاہیت کے خلاف اٹھنے والے آواز کو دبایا جاسکے گا اوردنیا بھر کے مسلمان اپنے احتجاجی مظاہوں میں اتحاد اسلامی کا خاص طور پر خیال بھی رکھیں گے جس سے آل ِسعود کے عزائم بھی مٹی میں مل جائیں گئے۔ جابر ، فاسق و فاجر اور ظالم حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق ادا کر نا جہاں ایک طرف سب سے بڑا جہاد تو دوسری طرف اپنی موت کو آواز دینے کے مترادف ہے۔ یہ کام اس لیے بھی دشوار ہے کہ اس عہد میں موجود تمام قوتیں جابروں و ظالموں کے زیر ِ نگیں اور ساتھ دینے والی ہوتی ہیں۔ طولِ تاریخ میں نظر دوڑائیے، کیسے کیسے سفاک و جابر حکمران گذرے ہیں ،مال و دولت، سلطنت ، شہرت، رعب و دبدبہ۔ اموی ، عباسی اور مغلیہ بادشاہتوں کے سامنے کلمہ حق کہنے والے کو باغی اور مرتد قراردیا جاتا رہا۔ اہل ِ حق اور مظلوم تاریخ کے اوراق اورلوگوں کے دلوں میں زندہ رہے اور جابر حکمرانوں کے نام و نشان مٹ گئے۔آج اموی، عباسی و مغل خاندانوں کے مقابر ، عبرت گاہیں ہیں۔ تاریخ کے اوراق میںمظلوموں کا نام ہی رہے گا ، ظالم اور انکے ہمنوا قصہ پارینہ بن جائیں گئے۔امریکی ایماء پرآلِ سعود کی خائن حکومت افغانستان سے لیکر نائیجیریااور لبنا ن سے لیکرمصر ، شام سے لیکر عراق، بحرین سے لیکر پاکستان اور دیگر دنیا میں فتنہ پھیلانے میں مصروف ہے۔نہ نبی کی بیٹی کامزار چھوڑا نہ اہلبیت و اصحاب اور نبیوں و پیغمبروں کی قبریں چھوڑیں۔ جو زمین امن کا سرچشمہ ہے وہاں سے کبھی القاعدہ تو کبھی طالبان ، کبھی داعش تو کبھی دولت ِ اسلامیہ اور آئی ایس آئی ایس جیسی اسلام و انسانیت دشمن پروڈکٹس بناکر پوری دنیا میں اسلام کا چہرہ مسخ کیا جارہا ہے ۔آلِ سعود کی ظالمانہ و سفاکانہ جرائم کی ایک طویل داستان ہے لیکن حجاز مقدس اب ملوکیت کے منحوس سائیوں سے نکلنے اور آلِ سعود کا تختہ اوندھے منہ ہونے کو ہے اور شیخ باقر النمر کی شہادت سے آل ِسعود اور اسکی خائن حکومت کی تباہی و بربادی اور اس سرزمین کو دوبارہ حجازِ مقدس بنانے کا آغاز ہو گیا ہے اور انکی بے گناہ شہادت آلِ سعود کی سفاکانہ و ظالمانہ سلطنت کی نابودی کا باعث بنے گی ۔ اس جید عالم ِ دین کے قتل سے مذاحمت اور حریت کے نئے سلسلے شروع ہونگے جو آل ِسعود کی بربادی پر منتج ہونگے۔اب امریکہ و یورپ کو منافقانہ پالیسیاں ختم کرکے عرب ممالک میں عوام تک اختیارات کی منتقلی اور جمہوریت اور انسانی حقوق ، سیاسی و مذہبی آزادی اور سماجی انصاف کے مطالبات کی حمایت کرنا ہوگی ورنہ دنیا ظالم حکمرانوں کے ہاتھوں تباہ و برباد ہوتی رہے گی۔خدا کرے کہ یہ سال دنیا بھر میں امن و سلامتی کی نوید لائے اور ظالم وجابر اور فاسق و فاجر حکمرانوں کے ہاتھوں سیاسی، مذہبی، سماجی ، معاشی ،معاشرتی بنیادوں پر غلام انسانوں کے لئے آزادی کا سال قرار پائے۔۔۔! یاد رہے کہ ظالم اسوقت تک ظالم رہتا ہے جب تک مظلوم مظلوم بنا رہے اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانا شعارِ حسینی ہے۔۔! امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کا فرما ن ہے کہ کفر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم کی نہیں۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲