اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
دہشت گرد مخالف اتحاد کا مقصد۔۔۔!
از قلم سید تصور حسین نقوی ایڈووکیٹ
دہشت گرد مخالف نام سے قائم ہونے والا فوجی اتحاد وجود میں آچکا ہے۔سعودی عرب کی سربراہی میں پاکستان ، ترکی ، مصر، اردن، افغانستان،ملائیشیا، قطر،متحدہ عرب امارات،خلیجی اور افریقی ممالک سمیت چونتیس ممالک اس اسلامک ملٹری الائنس کا حصہ ہو ں گے۔ایران، عراق اور شام کی شراکت کے بغیر اس اتحاد کے بنانے کا مقصد، پس پردہ محرکات اور اتحادیوں کا مشن کیا ہے وہ بھی روز ِروشن کی طرح عیاں ہے۔ یہ وہ بھونڈااتحاد ہے جس کا نتیجہ عالم اسلام کی مزید تفریق وتقسیم اوردہشت گردی کے نئے پودوں کی افزائش ،مذہبی اور مسلکی بنیادوں پر ایک دوسرے سے لڑنے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اسلامی لشکر کی صف بندی کرنے والے وہ عرب ممالک ہیں جو اسرائیل کے آگے صرف چند گھنٹوں میں گھٹنے ٹیک دینے کے سوا کوئی فوجی تجربہ نہیں رکھتے لیکن اسرائیل کو پے در پے شکست اور حقیقی خوف میں مبتلا کر دینے والی حزب اللہ بھی اس فوجی اتحاد سے باہر ہے اور اسرائیل کا ناجائز وجود بھی انکے ایجنڈے سے خارج ہے۔فوجی اتحاد کا مرکزریاض ایک طرف دنیا بھرمیں مذہبی جنونیت، انتہا پسندی ودہشت گردی اور تکفیریت کا منبع ہے تو دوسری طرف انہی دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا مرکز بننے جارہا ہے۔اس اتحاد میں شامل ممالک کی لسٹ اگر دیکھی جائے تو یہ ایسے ممالک ہیں کہ جنکے داعش، القاعدہ ، آئی ایس آئی ایس،طالبان، دولت ِ اسلامیہ اوراس نوع کی دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ براہ راست روابط ہیں یا رہے ہیں۔ ترکی وہ ملک ہے جو براہ راست داعش کو اسلحہ سمیت لاجسٹک سپورٹ فراہم کر رہا ہے۔ قطر اسوقت داعش کو بہت بڑی مقدار میں پیسہ دے رہا ہے۔ سعودی عرب تو نہ صرف خود ہی ان تنظیموں کا خالق ہے بلکہ اسکی طرف سے دنیا بھر میں ایکسپورٹ ہونے والے ''اسلام '' کے اندر سے مختلف شاخیں نکلیں اور ہر ایک شاخ سے دہشت گرد وں کے بھیانک چہرے باہر نکلے جنہوں نے پوری دنیا کا امن تباہ کرکے رکھ دیا اور اسلام کو پوری دنیا میں بدنام کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔اتحاد میں شامل یہی وہ ممالک ہیں جو بر اہ راست داعش کو سپورٹ کرتے رہے ہیں اور اسی داعش کی وجہ سے اِنکے اور روس کے تعلقات خراب ہوئے ہیں ، ترکی نے روس کا طیارہ بھی گرایا جسکا نتیجہ خطے میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ یہ داعش یا دہشت گردی کے خلاف ایک اتحاد ہے یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے۔ ایسے چونتیس ممالک جن کا براہِ راست داعش کے ساتھ کسی بھی ملک میں ٹکراؤ نہیں ہے وہ تو داعش کے خلاف اتحاد میں شامل ہو رہے ہیں اور جوممالک براہ راست لڑ رہے ہیں وہ اتحاد میں شامل نہیں، یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ ! دہشت گردوں کو پالنے والوں کا دہشت گردی ختم کرنے کا اعلان بھی مضحکہ خیز ہے اور اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دو ہزار نو میں ویکی لیکس کی رپورٹ کے مطابق امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کیطرف سے چار ممالک میں امریکن ایمبیسیز ڈیپارٹمنٹ آف ٹریریز کو ای میلز کی گئیں تھیں جن میں کویت، بحرین، اسلام آباد اور ریاض شامل ہیں۔جس میں امریکن سیکریٹری آف سٹیٹ نے ان ایمبیسیز کے متعلقہ عملے کواپنے ہی اتحادی کے بارے میں لکھا تھا کہ سعودی عرب دنیا بھر میں دہشت گردی پھیلانے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اب سوچنا یہ ہے کہ اْمت ِمسلمہ کی یکجہتی اگر مطلوب تھی توشیعہ مسلمان اس اتحاد سے باہر کیوں ہیں۔؟ سوال یہ بھی اْٹھتا ہے کہ شیعہ اور سنی کی تفریق اگر مقصد نہیں تھا تو اس اتحاد میں شام، ایران اور عراق شامل کیوں نہیں ہیں۔ ؟ صرف سنی مسلمانوں کے کردار پر زور کیوں دیا گیا ہے۔؟ کیا اس سے فرقہ واریت کو تقویت نہیں ملے گی۔؟ داعش کے خلاف تو پہلے ہی پینسٹھ سے زائد ملکوں کا اتحاد قائم ہے، اسکے علاوہ نیٹو اور یواین پیس مشن بھی موجود ہیں تو یہ نیا اتحاد کیوں تشکیل دیا گیا۔؟ اسلامی ممالک کا اتحاد بھی آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن کے نام سے قائم ہے ۔ اس پلیٹ فارم سے بھی مشترکہ طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا جاسکتا تھا۔ عرب ممالک کا اتحاد بھی عرب لیگ کے نام سے موجود ہے ، وہاں سے بھی یہ اعلان کیا جاسکتا تھا ۔ ہمارے ذہنوں میں یہ بھی سوال اْٹھتا ہے کہ اتحادی ممالک کی جانب سے عراق اور شام جو داعش کے خلاف بر سر پیکار ہیں ا ْنکی اب تک کیا مدد کی گئی ہے۔ ؟ اب جبکہ چار مقاصد کے تحت قائم ہونے والے فوجی اتحاد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کے تحت ہر قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو۔اتحادی ممالک آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ بھی کر سکیں گے۔ضرورت پڑنے پر زمینی فوج کو بھی تعینات کیا جائے گا اور اس فوج کو مسلح کیا جائے گا اور انکی ٹریننگ اور تربیت بھی کی جائے گی اورداعش کے خلاف سنی مسلمانوں کے کردار میں وسعت پیدا کرنا بھی اس میں شامل ہوگا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران، عراق، شام ایسی دنیا میں نہیں آتے جہاں سے دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے یا وہاں دہشت گرد بالخصوص داعش موجود ہی نہیں۔؟ حالانکہ شام اور عراق ہی دو ایسے ممالک ہیں جہاں پر داعش سب سے زیادہ کاروائیاں کر رہی ہے اور ان اتحادیوں کا ان دو ممالک میں دوہرا معیار بھی دنیا کے سامنے ہے کہ وہ وہاں کس کے معاونت کار، سہولت کار اور مددگار بنے ہوئے ہیں۔اتحاد میںجہاںسنی مسلمانوں کے کردار میں وسعت کی بات کی گئی ہے وہاں شیعہ مسلمانوں کے اس کردار کو فراموش کر دیا گیا ہے کہ اگر داعش ، القاعدہ اور انکے حامیوں کے خلاف عراق کے مرجع تقلید آیت اللہ سید علی سیستانی کا فتویٰ نہ آتا اور عراق ، ایران اور شام کے عوام کا داعش کے خلاف اعلان جہاد نہ ہوتا توداعش کا آج پورے خلیج فارس کی عرب ریاستوں پر قبضہ ہوتا۔ان سارے سوالات کا جواب دینا مشکل نہیں کہ آل ِ سعود مقدس مقامات پر اجارہ داری کے بعد اب مسلم ممالک پر مشتمل ایران مخالف سنی بلاک قائم کرنا چاہتا ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق چونتیس ملکوں کی فاتحانہ سوچ اورفوجی اتحاد صرف سعودی برانڈ وہابی اتحاد ہے جو مستقبل میں شیعہ مسلمانوں سے انداز بدل بدل کر نبرد آزما ہوتا رہے گااور لشکر کی حقیقی منزل شام اور عراق پر لشکر کشی اورشیعہ مسلمانوں پر کاری ضرب لگانا اور ایران کو کمزور کرنے کی بھیانک سازش ہے۔ اگر واقعی اس اتحاد کا مقصد دنیا میں ہر جگہ دہشت گردی کا خاتمہ ہے تو پھر کوئی آلِ سعود سے پوچھے کہ فلسطین اور کشمیر میں ریاستی دہشت گردی پر خاموشی کیوں ہے۔؟ سعودی سرمایہ سے بننے والے اتحاد کو نصف صدی سے زائد عرصے سے کشمیر میں ہندوستانی اور فلسطین میں غاصب اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کیوں نظر نہیں آتی ۔؟بے بس، بے حس اور زندہ لاش کی صورت اسلامی دنیا کو بوسنیا ہر زیگوینامیں مسلمانوں کی نسل کشی کیوں نظر نہیں آئی۔؟ برما میں مسلمانوں کے اجتماعی قتل عام کی خبر کیوں نہ لی۔؟ لبنان اور فلسطین پر اسرائیلی دہشت گردی اور بربریت کے دوران اب بھی اکثر اتحادی اسرائیل کے سپورٹر ہیں۔اسرائیلیوں کے خلاف لڑنے والے حماس کو سعودیوں نے کیا مدد فراہم کی اور کیا کسی ایک بھی فلسطینی کو اپنے دفاع کے لیے ایک بھی گولی سعودی حکومت نے دی۔؟ سعودیہ کے اسرائیل کے ساتھ پس پردہ دفاعی تعلقات سے کون واقف نہیں۔؟سعودی عرب کی طرف سے مصر اورچیچنیا میں و یسٹرن ورلڈ کا ساتھ جس بھونڈے انداز میں دیا گیاوہ بھی ہماری نظروں کے سامنے ہے۔سعو دی عرب نے عراق، لیبیا، شام، مصر، تیونس، بحرین، یمن سمیت بہت سے اسلامی ممالک میں جس طرح مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی اور جو بھیانک کردار ادا کیا اسے بھی بھلایا نہیں جا سکتا ۔ جو اتحاد ابھی بنا ہے اسی کے چھ رکن ممالک اپنے ہی مجوزہ اتحادی یمن پر مسلسل حملے کئے جا رہے ہیں حالانکہ وہاں تو کوئی داعش ، القاعدہ یادولت اسلامیہ کے خلاف یہ کاروائیاں نہیں ہو رہیں۔سنی مسلمانوں کا نام استعمال کر کے قائم کیا جانے والے اتحاد کے سرپرست سعودی عرب کے بارے میں مسلم دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ خلافت ِ عثمانیہ توڑنے میں کس منحوس خاندان کا ہاتھ تھا اور سنی مسلمانوں کے کردار کو کس طرح عرب اور بالخصوص مقامات ِ مقدسہ سے ختم کیا گیا۔؟ عراق، یمن اور شام میں سعودی اتحاد او ر نظریات کی مکمل ناکامی و شکست کے بعداب سعودی عرب اپنی بقاء کی جنگ لڑ نے کے لیے دوسرے اسلامی ملکوں کودرگیر کرنا چاہتاہے اورشام کے بحران میں اپنی شرکت کو مذید جائز کروانے اور روس کے برابر آنے کے لئے ا یران مخالف سنی بلاک قائم کرنا چاہتا ہے اورشام اور عراق پر لشکر کشی کرکے شیعہ مسلمانوں اور بالخصوص ایران کو کمزور کرنے کی بھیانک سازشوں میں مصروف ہے۔لہذا یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ چونتیس ممالک کا فوجی اتحاد انجمن متاثرین شیخ محمد بن عبدلوہاب کے سوا باقی کچھ بھی نہیں۔! اس اتحاد کے بارے میں امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹرنے انقرہ سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد امریکی حکمت عملی کے عین مطابق ہے۔امریکہ کا بیان اتحاد کے مقاصد کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے۔کیونکہ خطے کے تین بڑے ممالک عراق، ایران اور شام کو اتحاد میں شامل نہ کرنافرقہ وارانہ اور مسلکی بنیاد پر مذید تقسیم کا باعث بنے گا جو امریکہ کے مفاد میں ہے۔اس اتحاد کا مرکز سعودی عرب کا دارالحکومت ریاض ہو گا کہ جہاں سے فوجی آپریشن کے سلسلے میں رابطہ رکھا جائے گا اور ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ یہ خبر ہمیں ، ہمارے ملک اور وہاں کے ذمہ داران کو سعودی عرب کے وزیر دفاع محمد بن سلمان کی پریس کانفرنس سے ملی کہ پاکستان بھی اس اتحاد کا حصہ ہے۔ ہمیں شائد اس اہم اتحاد کا علم ہی نہیں تھا جس میں ہمارے دفتر خارجہ نے پہلے شمولیت سے انکار کیا ، پھر تفصیلات آنے کے انتظار کی بات کی گئی لیکن پھر بعد ازاں اس میں شمولیت کی نوید سنا دی گئی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس اتحاد میں شمولیت کی حامی اس خوف سے نہ بھری گئی ہو کہ شائد یمن جنگ میں شمولیت سے انکار کی طرح اس بار بھی انکار کرنے پر امارات کے وزیر خارجہ ڈاکٹر انوار محمد قرقاش ایک بار پھر ہماری ''عزت افزائی'' نہ فرما دیں۔؟ محسوس یہ ہورہا ہے کہ یہ ریاست نہیں بلکہ بکاریوں کی بستی اور یہاں جنگل کا قانون ہے۔ نہ ایوان میں بحث نہ مقاصد کا تعین،نہ اہداف کی وضاحت، نہ قوم کو پتہ۔ لیکن ہم پھر بھی اتحاد کا حصہ ہیں۔ ! اگر طالبان سے مذاکرات، نیشنل ایکشن پلان اور یمن میں فوج بھیجنے کے معاملہ میں قومی اسمبلی میں بحث ہو سکتی ہے تو یہ کلیدی مسئلہ پارلیمنٹ میں لانے میں کیا ہچکچاہٹ ہے۔؟ ہم ایک بار وہی تاریخ دہرانے جارہے ہیں کہ جب جہاد کے نام پر ایسی جنگ کا حصہ بنے جسے امریکہ اور یورپ بھی جہاد کا نام دیتے تھے اور جسکے فیوض و برکات سے نا جانے ہماری کتنی آنے والی نسلیں مستفید ہوتی رہیں گی۔ د وسروں کا گلہ کیا کرنا اور دوسروں سے گلہ کیا کرنا یہاں تو سارے جہاں کا دردہمارے جگر میں ہے ۔ ہمیں توکسی بیرونی دشمن کی ضرورت ہی نہیں بلکہ ہمارے تو اپنے ہی نشیمن پر بجلیاں گراتے ہیں۔ انہی میں سے کچھ اپنے ہمدردوں کا خیال ہے کہ یمن جنگ کا حصہ نہ بننے پر سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک سے پاکستان کے خراب ہونے والے تعلقات کو بہتر بنانے کا یہ سنہری موقع ہے جسے رائیگاں نہیں جانے دینا چاہیے اور عرب ممالک سے گاہے بگاہے ملنے والے ''نایاب اور قیمتی تحفوں ''سے ہاتھ دھونابیوقوفی ہوگی اور پاکستان کو بھی اس'' مقدس مشن ''میں حصہ لیکر ثواب دارین کا مستحق ٹھہرنا چاہیے۔ اتنے خوفناک حقائق جاننے اور بھیانک نتائج بھگتنے اور ماضی کے تلخ تجربات کے بعد پاکستان کا ایک مرتبہ پھر ایسے اتحادوں کا حصہ بننا سمجھ سے بالا تر ہے۔! تا ریخ گواہ ہے کہ سعودی عرب کے پیسے اور امریکی پالیسیوں نے پاکستان کو تباہ کیااور انہی کیوجہ سے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ ملا۔ سعودی عرب نے اپنے پیسے کے بل بوتے پر اپنے مذہبی نظام کو نہ صرف دنیا بھر میں ایکسپورٹ کیا بلکہ دہشت گردی ، فرقہ واریت، انتہا پسندی کو فروغ دینے اور اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والی تنظیموں کی مالی معاونت کرنے میںمیں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
آج ساری مسلم دنیا سعودی عرب کے اس پیسے کی وجہ سے تناؤ اور ان تنظیموں کی وجہ سے عدم استحکام کا شکار ہے ۔ سعودی عرب کی چیک بْک ڈپلومیسی کا نتیجہ عالم اسلام کی مزید تفریق ، تقسیم اور نفاق کا سبب اورمذہبی و مسلکی بنیادوں پر ایک دوسرے سے لڑنے کی صورت میں نکل سکتا ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اب نظر یوں آرہا ہے کہ امریکہ اور یورپ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مذیداْلجھے رہنے کے متحمل نہیں۔وہ اس جنگ سے جان چھڑانا چاہتے ہیںاور اس بات کے خواہش مند ہیں کہ داعش، القاعدہ،آئی ایس آئی ایس، دولتِ اسلامیہ، طالبان اور اس طرح کے دیگر دہشت گرد گروپ امریکہ و یورپ کو نشانہ بنانے اور انہیں اپنا دشمن سمجھنے کے بجائے مسلمانوں کو ہی اپنا دشمن سمجھ کرانہیںاپنی کاروائیوں کا ہدف بنائیں۔ پاکستان ایک عرصہ سے دہشت گردی کا شکار ہے اور لاکھوں جانوں کی قربانیاں بھی دے چکا ہے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہاں مذہبی، فرقہ وارانہ، نسلی اورلسانی بنیادوں پردہشت گردوں نے تباہی مچائی مگر مسلکی اختلافات اورتعصبات نے لوگوں کواس طرح تقسیم نہیں کیا جس طرح کئی دیگر عرب ممالک میں دیکھنے کو ملا۔ کسی اتحاد میں شمولیت، جسکی قیمت ہمیں پاکستان میںداعش کے داخلے ور مسلکی بنیادوں پرمعاشرے کی تقسیم کی صورت میں ادا کرنی پڑے، خوب سوچ سمجھ کراور حتمی نفع و نقصان کا اندازہ لگا کرکی جائے۔ اس ضمن میںافغانستان،تیونس، یمن، عراق،مصر، لیبیا، بحرین، شام میں غیر ملکی مداخلتوں اور دہشت گردوں سے نمٹنے کی امریکی و یورپی پالیسی و حکمت عملی کا باریک بینی سے مطالعہ و مشاہدہ اور نتائج کا ادراک بھی ضروری ہے۔یہ بھی جان لینا چاہیے کہ اس اتحاد میں شمولیت سے روس کے ساتھ تعلقات پر کیا اثر پڑے گا جو ایک طویل سرد مہری کے بعد حال میں بہتر ہوئے ہیں۔ قریبی ہمسائے روس،چین،ایران سے تعلقات پر کیا اثر پڑ سکتا ہے اور انہیں ناراض کرکے امریکی ایماء پر نئے اتحاد میں شامل ہونے سے پڑوسیوں سے تعلقات کیسے رہ سکتے ہیں اور پڑوسیوں کا مضبوط بلا ک ہمیں کن خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔؟ معاشرے میں کسی نئی تفریق کا کیا امکان ہے۔ ؟ اس نئے اتحاد میں شامل ہوکر دہشت گردی کے خلاف پہلے سے جاری جنگ اور آپریشن ضربِ عضب پر کیا ممکنہ اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور ایک نئی جنگ شروع کرکے افواج ِپاکستان اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروںکے مورال میں کس قسم کی تبدیلی واقع ہو سکتی ہے، ان سارے سوالات کو باریک بینی سے جاننا ضروری ہے۔مشرقِ وسطی کی موجودہ صورتحال اور ہمارے اپنے زمینی حقائق کے پیش نظر پاکستان کی مداخلت کسی صورت بھی مناسب نہیں ، اس لیے کہ ہمارا ملک پہلے سے ہی کئی عشروں سے خود دہشت گردی کا شکار ہے اور ہماری فوج ملک میں جاری دہشت گردی کے خلاف ضرب ِ عضب آپریشن میں دہشت گردوں کے ساتھ نبرد آزما ہے۔ اس لیے اس نازک مرحلے پر پاکستانی ریاست اور ریاستی اداروں اور فیصلہ ساز قوتوں کو سوچ سمجھ کر ملکی سلامتی، آزادی و خودمختاری، قومی وقار اور ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے جذبات سے ہٹ کر دانشمندی کے ساتھ فیصلے کرنے ہوں گے۔گذشتہ سالوں میں ہمارا جو حشر ہوا اورپاکستان نے جس طرح غیروں کی جنگ کو اپنا بنایا اور اسکی مٹی لہو لہو ہوئی ہمیں اس سے سبق سیکھنا ہو گا۔'' اسلامی عسکری اتحاد میں شمولیت ایک معمہ'' کے عنوان سے چھپنے والا عارف نظامی صاحب کاکالم بھی اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ پاکستان کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جب حکمرانوں نے عوام کو اندھیرے میں رکھ کر اپنے وقتی مفادات کی آبیاری کے لیے قومی مفادات کوپس ِ پشت ڈال دیا۔ پاکستان کو کمیونزم کے خلاف اتحاد سیٹو اور سینٹو میں جھونکاگیا۔ ایک ایسی جنگ جو ہماری نہیں تھی لیکن ڈالر کمانے کی غرض سے ہم راتوں رات کمیونزم کے خلاف اس جنگ میں براہ ِ راست امریکہ کے اتحادی بھی بنے ، جسکے نتیجے میں پاکستان میںامریکی اسلحے کے انبار لگے اور حکومتی سرپرستی میں کاشنکوف کلچر کو خوب پروان چڑھایا گیا۔اس سرد جنگ میںپاکستان کو ملوث کر کے ہمیں سوائے سوویت یونین کی دشمنی کے اور کیا ملا۔؟ انیس سو ساٹھ میں پشاور بڈھ بیر بیس سے امریکی طیارے روس کی جاسوسی کرتے تھے۔ ایساہی ایک یو ٹو طیارہ جب پشاور سے اْڑا تو اسکو روس نے گراکراْس کے پائلٹ فرانسز گیری پاورز کو پکڑ لیا اور اس طرح آمر ایوب خان کے ہاتھوں پاکستان کے مفادات کو امریکہ کے آگے فروخت کرنے کابھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ گیا۔جنرل ضیاء الحق کے دور میں انیس صد اناسی میں افغانستان میں سوویت یونین فوجوں کی یلغار کے بعد ہم کھلم کھلا کمیونزم کی یلغار کو روکنے کے چیمپئن بن بیٹھے اوردیوار برلن توڑنے کے شوشے چھوڑنے لگے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں نائن الیون کے اگلے روز ہی اسوقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل محمود نے امریکی حکام کی تمام شرائط کے آگے اسوقت گھٹنے ٹیک دیئے کہ جب ان سے کہا گیا کہ جناب جنرل مشرف سے کلیئرنس تو لے لیںتو انہوں نے فرمایا کہ اس کی کیا ضرورت ہے ۔ مجھے اچھی طرح علم ہے کہ میرے باس کا کیا موڈ ہے۔ پرائی جنگوں میں پاکستان کو جھونکنا ماضی کے حکمرانوں کا وطیرہ رہا ہے جسکا خمیازہ قوم آج تک بھْگت رہی ہے۔ لیکن ان کوتاہ اندیشانہ پالیسیوں کی بناء پر جب بھی ہماری سا لمیت پر کوئی آنچ آئی تو ہمارا دوست امریکہ تو ہمیں نہ بچا سکاتاہم ہمارے دشمنوں نے ہمیں جی بھر کر نقصان پہنچایا۔ اس حوالے سے مشرقی پاکستان کی خانہ جنگی میں بھارت اور سابق سوویت یونین کی ملی بھگت ہماری تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے جس کے نتیجے میں وطن ِ عزیز دو لخت ہوگیا جسے ہم کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتے۔سعودی عرب کی زیرِ قیادت اتحاد میں شمولیت بھی کچھ اس قسم کا معاملہ لگتا ہے۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ '' یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ انسان کوہلوں کی کان میں چلا جائے اور منہ کالا کر کے واپس نہ آئے۔ پاکستان نے جس طرح غیروں کی جنگ کو اپنا بنایا اوراس جنگ کے اثرات سے ملک و قوم کا منہ کالا ہوا، اب کی بار اپنے آپ کو کوہلوں کی دلالی سے دور رکھنا چاہیے۔ (ختم شد)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲