اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شام کا میدان جو کہ صہیونی حکومت کے لئے انتہائی واضح اہمیت کا حامل ہے اسی وجہ سے شام میں رونما ہونے والی ہر تبدیلی کو وہ باریکی سے دیکھ رہے ہیں ۔ نشریہ" فارین پالیسی" نے شام کی تبدیلیوں پر کڑی نظر اور ملک میں روسیوں کی وسیع پیمانے پر موجودگی کے بارے میں لکھا ہے : اسرائیل شاید پہلی حکومت تھی کہ جس کو کی شام میں پھر سے موجودگی کے بارے میں پتہ چلا تھا۔اگست کے اواخر میں ایک مقالہ جس کا عنوان تھا" روسی جنگی طیارے شام کے آسمان پر" اسرائیلی روزنامے بدیعوت آحارونوت میں نشر ہوا تھا ۔
اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ۲۱ ستمبر کو ماسکو کے ایک فوری دورے میں کوشش کی کہ وہ شام کے آسمان پر اسرائیل کی ہوائی فورس کا مقابلہ نہ کرے ۔
صہیونی ذرائع ابلاغ نے کوشش کی کہ اس ملاقات کے بعد اپنی اس آرزو کو ایک رپورٹ کے قالب میں اپنے مخاطبین تک پہنچائیں ۔ اس بنا پر انہوں نے ایک ایسے سمجھوتے کے بارے میں خبر دی کہ جو روس اور صہیونی حکومت کے درمیان ہوا تھا کہ جس کی بنیاد پر شام میں روس کے ہوائی حملے شروع ہونے کے بعد پہلے تو شام کے آسمان پر دونوں کے طیاروں کے ممکنہ ٹکراو سے بچا جائے ،دوسرے ماسکو شا م میں جو صہیونی حکومت کے حساس معاملات کی رعایت کرے کہ جن میں ایک شام کی سر زمین سے حزب اللہ کو ہتھیاروں کی سپلائی ہے کہ جس کو روکا جائے ۔نیتن یاہو نے اس ملاقات میں تاکید کی کہ حزب اللہ کو ہتھیار بھیجنا اور صہیونی حکومت کے جنوب میں ایران کے توسط سے ایک نیا محاذ کھولا جانا اسرائیلی حکومت کی اصلی پریشانی ہے ۔
لیکن ان رپورٹوں کے خیالی ہونے کو ثابت کرنے کے لیے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا ،جب صدرپوتین نے ایک پیغام میں نیتنیاہو کی تنبیہ کی کہ روس اب شام پر اسرائیل کے حملوں کو برداشت نہیں کرے گا اور اس کو جواب دے گا ،صدرپوتین نے یہ اعلان بھی کیا کہ اس نے شام کی فوج کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔
پوتین نے نیتن یاو کے ساتھ فون پر ایک گفتگو میں اس کو یاد دلایا کہ روس امریکہ ،اسرائیل یا علاقے کے کسی بھی ملک جیسے ترکی یا قطر کو بشار اسد کی حکومت کو گرانے کی اجازت نہیں دے گا ۔یہ وہی واقعہ تھا کہ جس نے صہیونیوں کو سخت پریشان کر رکھا تھا ،اور مقاومت کے محاذ کو کمزور کرنے کے ان کے کئی سال کے پروگرام کو شکست سے رو برو کر رہا تھا ۔
اسرائیلی فوج کے اطلاعات کے ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ روس کا ایس ۳۰۰ سسٹم شام کو روزانہ دیے جانے والے ہتھیاروں کے ساتھ جلدی ہی شام منتقل ہو جائے گا اور نصب کیے جانے کے بعد وہ اپنا کام شروع کر دے گا ۔اس بنیاد پر شام کی ہوائی فوج کی جو ٹیمیں کہ جنہوں نے روس میں ٹرینینگ کی ہے روسی افسروں کی نگرانی میں وہ اس سسٹم کو نصب کر کے کاروائی کے لیے تیار کریں گے ۔
روس نے شام میں کیوں فوجی کاروائی شروع کی ہے اس کے بارے میں ماہرین نے مختلف احتمالات بیان کیے ہیں ؛
*۔ مغربی ایشیا میں طاقت کا خلاء ہے اور او با ما بھی اس علاقے میں آنے پر مایل نہیں ہے لہذا پوتین چین کی حکومت کو لگام دینے کے لیے ایشیا کے مغرب میں روس کی روایتی پوزیشن کو بحال کرنا چاہتا ہے ۔
*۔ پوٹین کو چچنی نسل کے سلفی ۔ تکفیری کے شام سے روس کی طرف واپس جانے کے سلسلے میں سخت تشویش لاحق ہے اسی لیے اس نے یہ طے کیا ہے کہ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے وہ شام میں ہی ان دہشت گردوں کا صفایا کر دے گا ۔
*۔ روسی نہیں چاہتے کہ لیبیا میں جو تین سال پہلے ہوا وہ دوہرایا جائے ۔قذافی کے چلے جانے کے بعد ان وعدوں کے باوجود کہ جو کیے گئے تھے ،امریکہ اور یورپ نے روس کو لبیا سے الگ کر دیا ۔ پوتین سوچتا ہے کہ اگر شام کو بھی وہ حریف کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گا تو نہ صرف وہ اپنے ٹکنے کی جگہ سے محروم ہو جائے گا بلکہ روس کو شام سے مکمل طور پر الگ کرنے کا راستہ ہموار ہو جائے گا ۔
*۔ بعض کا یہ خیال ہے کہ روس مغرب سے یوکرائن کا بدلہ لے رہا ہے اور جس طرح مغرب نے یوکرائن میں روس کا گلا دبایا تھا اسی طرح روس شام میں مغرب کا گلا دبا نا چاہتا ہے ۔
ایک اور تحلیل بھی ہے جس کا تعلق نفسیات کی شناخت سے ہے جس کی بنیاد اس پر ہے کہ روس کی شام میں موجودگی کی وجہ ولادیمیر پوتین کی ذاتی خصوصیت ،اور اس کا عربوں جمگٹھے میں شامل ہونے پر مایل نہ ہونا اور روس کا علاقے میں ایک طاقتور کھلاڑی کے طور پر ظاہر ہونے پر مایل ہونا ہے ۔دوسرے لفظوں میں یہ الزامات اسٹریٹیجیک نہیں تھے کہ جو روسیوں کو شام میں کھینچ لائے ہوں بلکہ یہ پوتین کی کسی کے آگے نہ جھکنے والی اور تہاجم پسند شخصیت تھی کہ جس نے روس کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دھکیلا ہے ۔
لیکن اتنا مسلم ہے کہ صہیونی حکومت روسیوں کے مقابلے میں کوئی سنجیدہ رد عمل دکھانے پر قادر نہیں ہے ،اس لیے کہ اس حکومت کی فوجی طاقت اور اس کا سیاسی وزن صہیونی حکومت کے لیے اس چیز کو ممکن نہیں بناتا کہ وہ روس کے مقابلے میں کچھ کر سکے ۔
صہیونی حکومت اس سے بھی خائف ہے کہ روس کے ساتھ کھل کر مقابلہ کرنے کی صورت میں ماسکو اپنے ہمنوا کھلاڑیوں جیسے حزب اللہ ،ایران اور شام کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کر کے تل ابیب کو سبق سکھا سکتا ہے ۔پوتین نے گذشتہ سال بھی صہیونی حکومت کے شام پر حملوں کے رد عمل میں دھمکی دی تھی کہ وہ شام کی فوج کو جدید ترین ہتھیار دیے جانے کا حکم صادر کر دے گا ۔
نیتن یاہو کے لیے بہترین چیز لمبی مدت کی جنگ ہے کہ جس میں اسرائیل کے دشمن الجھے رہیں ،تقریبا چار سال تک وحشتناک داخلی جنگ اور تباہ کن نقصانات کے بعد ،شام کی فوج نے اپنی طاقت کا کافی حصہ دہشت گردوں کے ساتھ جنگ میں گنوا دیا ہے ۔دو سال پہلے اسد کے کیمیکل ہتھیار امریکہ کے دباو کے نتیجے میں تباہ کر دیے گئے اور اس طرح اسرائیل کی حکومت کو موقعہ ملا کہ تقریبا ۲۰ سال سے زیادہ مدت کے بعد گیس کے ماسک کی تقسیم کے سلسلے کو متوقف کرنے میں کامیاب ہوئی ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ موجودہ صورت حال کا چلتے رہنا صہیونیوں کے لیے ایک بہترین ممکن موقعہ کہلائے گا ۔
تل ابیب میں بہت سارے سرائیلی فوجی تجزیہ نگار معتقد ہیں کہ شام میں روس کے ہوائی حملے امریکہ کی رہبری کے اتحاد کے حملوں سے زیادہ شجاعانہ ہیں ،وہ اپنے مغربی ساتھیوں کی طرح اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان حملوں کا نشانہ داعش کے علاوہ اعتدال پسند مخالفین بھی بنے ہیں،وہ گروہ کہ مغرب والے جن کو اچھے دہشت گرد کہتے ہیں ۔
جب تک کہ روس والے اسد کی مدد کرتے ہیں اور اس کی فوجی بنیادوں کو مضبوط کرتے ہیں اس وقت تک اسرائیل زیادہ پریشانی کا اظہار نہیں کرے گا ۔اس کے باوجود اگر روس اور ایران کے تعاون کی وجہ سے اسد کی حکومت اپنے اکثر علاقوں کو واپس لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ ایک ایسی تبدیلی ہو گی کہ اسرائیل جس کو آسانی سے نظر انداز نہیں کر سکتا اور یہ چیز بے شک اس جعلی حکومت کے اندر ہراس پیدا کرے گی ۔
اس چیز کے پیش نظر کہ شام میں مزاحمتی محاذ اور صہیونی حکومت کی جنگ ایک ہار جیت کی جنگ ہے تو ہر وہ اقدام کہ جو ایران ،شام اور حزب اللہ کی تقویت کا باعث ہو وہ صہیونی حکومت کے نقصان پر منتہی ہو گا ۔اسی بنیاد پر شام میں روس کے حملے قطعا شام ایران اور حزب اللہ کی تقویت کا باعث بنے ہیں ،جس کی وجہ سے مزاحمتی تحریک کا پلڑا بھاری ہو گا ۔
واقعیت یہ ہے کہ صہیونی حکومت روس کے ہوائی اور سمندری بیڑے کو آسمان میں اور مشرقی بحیرہ روم میں مشکل سے دو چار نہیں کر سکتی لہذا اسے شام کے آسمان میں روس کے سوخو طیاروں کی غراہٹ کو برداشت کرنا پڑے گا ۔دوسری طرف روس کی شام کے آسمان میں اور اس کی زمین پر موجودگی کی وجہ سےصہیونی حکومت کی آزادی سلب ہو کر رہ گئی ہے کہ وہ شام کے ہر علاقے پر حملہ کر سکیں ۔جب تک روس والے صرف ہوائی حملوں پر اکتفا کرتے ہیں اس وقت تک شاید صہیونی حکومت کے لیے بڑی مشکل پیش نہیں آئے گی ،لیکن اگر ایران ،شام اور حزب اللہ کے اور احتمالا محدود پیمانے پر روس کے زمینی حملے بھی ہوائی حملوں کے ساتھ جڑتے ہیں (جیسا کہ ان دنوں میں دیکھا گیا ہے )تو صہیونی حکومت خاموش رہنے یا رد عمل ظاہر کرنے کی متضاد کرنے کیفیت سے دوچار ہو گی ۔مگر یہ چیز طے ہے کہ شام کے حالات صہیونی حکومت کے حق میں نہیں ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲