اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اب تک عراقی اور شامی حکام اور ذرائع ابلاغ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ امریکہ پس پردہ دولت اسلامی [اسرائیلی]عراق و شامات (داعشISIS) کی حمایت کر رہا ہے ۔ یہاں تک کہ اس ملک کے سیاستمداروں نے بھی مذکورہ بالا رپورٹوں کی تائید کی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطی کے لوگ اور ذرائع ابلاغ اس طرح کی خبروں سے مکمل طور پر آشنا ہیں ۔
لیکن جب یہ خبر امریکہ کی سیاسی بناوٹ کے اندر سے سامنے آتی ہے تو پھر دیر سے یقین کرنے والوں کے لیے بھی شک کی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ داعش جیسے منحوس وجود کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے ۔گذشتہ سال امریکہ کے صدر کے نائب جو بائڈن اور امریکہ کی سابقہ وزیر خارجہ ھیلری کلینٹن نے اعلان کیا تھا کہ داعش واشنگٹن اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی مخلوق ہے ۔
کل بھی جمہوری خواہ پارٹی کے ایک رکن اور کانگریس میں امریکی نمایندوں کی مجلس کی خارجی روابط کی کمیٹی کے سر براہ ایڈویس نے کانگریس میں اظہار خیال کیا تھا کہ امریکہ کی ہوائی فورس کے ہوا باز کہ جو حال ہی میں داعش کے خلاف جنگ سے لوٹے ہیں انہوں نے اس سے اور کانگریس کے دوسرے نمایندوں کو بتایا کہ باراک او با ما کی حکومت کے دستور کے مطابق عراق میں داعش کے ۷۵ فیصد ٹھکانوں پر حملے کرنے سے روکا گیا ہے ۔ ہوا باز کے بقول داعش پر حملے سے روکنے میں او با ما کا بہانہ یہ تھا کہ ان سے غیر فوجیوں کی جانیں جائیں گی اور فالتو کا نقصان ہو گا !
امریکہ کے صدر نے ایسی حالت میں غیر فوجیوں کی جانیں جانے اور فالتو نقصان کو داعش پر حملے سے روکنے کا بہانہ بنایا ہے کہ جب حالیہ برسوں میں اس کے حکم سے اور ہری جھنڈی سے شام لیبیا ، یمن اور افغانستان میں ہزاروں بے گناہ خاک و خون میں غلطاں ہو چکے ہیں اور اس کشتار کا سلسلہ جاری ہے ۔ ایڈویس نے اپنی تقریر میں آگے او با ما سے کہا : ۱۲ مہینوں سے داعش کے پیچھے ہیں لیکن وہ آزادی سے آ جا رہے ہیں ۔آپ نے ہوائی فوج کی طاقت سے اسفادہ نہیں کیا ۔اب جب پائلٹ واپس آئے ہیں تو انہوں نے ہمیں بتایا ہے کہ داعش کے خلاف تین چوتھائی حملوں سے منع کیا گیا تھا اور پائلٹ کو حکم ملتا رہا ہے کہ ہم اس ٹارگیٹ سے مطمئن نہیں ہیں ! میں اس اسٹریٹیجی کو بالکل نہیں سمجھ پا رہا ہوں چونکہ اس حکمت عملی سے داعش کو فائدہ اٹھانے کا موقعہ ملا ہے ۔
امریکہ کے ایک فور اسٹار ریٹائرڈ جنرل جک کین نے کانگریس کی خارجہ روابط کی کمیٹی کی میٹینگ میں ایڈویس کی باتوں کی تائید کی ہے اور بتایا ہے : اوباما کی یہ سیاست ابتداء سے ہی عجیب تھی صدر نے ذاتی طور پر ایک بیان صادر کر کے ہوائی فورس کے اختیارات کو محدود کیا تھا ۔کانگریس کے کچھ اور نمایندوں نے بھی صدر سے مطالبہ کیا کہ بشار اسد کو ہٹانے کے بجائے داعش کے خلاف جنگ کرے ۔ اگر چہ امریکی جنریلوں اور کانگریس کے افراد کے لیے ممکن ہے یہ سوال موجود ہو کہ کیوں وائٹ ہاوس داعش کے خلاف جنگ میں سنجیدہ نہیں ہے لیکن مشرق وسطی کے لوگ اور ماہرین جانتے ہیں کہ ا با ما داعش کا اصلی حامی ہے اور وہ اس دہشت گرد گروہ کے ذریعے علاقے میں قومی اور مذہبی اختلافات پیدا کرنا چاہتا ہے ۔البتہ انٹرنیٹ کی اور غیر سرکاری اطلاعات کے ذریعے اس وقت امریکہ کے بہت سے لوگ اور خاص کر مسلمان بھی داعش کی اصلیت اور اس دہشت گروہ کے جو امریکہ سے روابط ہیں ان سے واقف ہیں ۔
نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ، گذشتہ سنیچر کے دن واشنگٹن کی شیعہ اور سنی مسجدوں کے تقریبا ۲۰۰ اماموں اور رہنماوں نے واشنگٹن میں وائٹ ہاوس کے سامنے اجتماع کیا اور اپنے نعروں میں امریکہ کی طرف سے داعش کی حمایت کی مذمت کی ۔ مظاہرین کے ہاتھ میں پلے کارڈ تھے کہ جن پر لکھا ہوا تھا ؛ مسلمان داعش اور دہشت گردوں کی مذمت کرتے ہیں ،اور شیعہ اور سنی ایک ساتھ ہیں ۔
گلوبل ریسرچ ؛ امریکہ داعش کا حامی ہے ۔
تجزیاتی مرکز گلوبل ریسرچ نے بھی سات ملکوں کا نام لیا ہے جو دہشت گردی کے حامی ہیں وہ سات ملک یہ ہیں ؛ سعودی عرب ، ترکی ، قطر ، اسرائیلی حکومت برطانیہ ، فرانس اور امریکہ ،
حزب اللہ لبنان کی سیاسی شوری کے سر براہ ،سید ابراہیم امین السید نے بھی کہا ؛ داعش کے خلاف امریکی اتحاد اس دور کا سب سے بڑا جھوٹ ہے ،امین السید نے خلیج فارس تعاون کونسل کے ملکوں کے داعش کے خلاف دعوے کو بھی ،دھوکے دھڑی کی سب سے بڑی کاروائی بتایا ۔
جرمنی کے سبز پوشوں کے سربراہ سم ازمیر ، نے بھی مغرب کی دہشت گردی کے خلاف جھوٹی سیاست پر شدید تنقید کی اور اعلان کیا کہ جب تک مغرب دہشت اور دوغلی سیاست کو نہیں چھوڑتا اس وقت تک دہشت گردی کے خلاف کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی اس نے کہا کہ سعودی عرب اور وہابیت دہشت گردی کا منبع اور منشاء ہیں ۔
مایکل ویکرز کہ جو ابھی حال ہی تک امریکہ کی وزارت دفاع اور سی آئی اے میں دہشت گردی کے خلاف کام کر رہا تھا ،اس نے داعش کے سلسلے میں اوبا ما کی حکومت کے موقف پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے ؛ جناب صدر صاحب ! آپ اپنی حکمت عملی تبدیل کریں ۔لیکن امریکہ کے صدر نے اس طرح کے دباو کو ہلکا کرنے کے مقصد کے تحت کہا ؛ ہم آخر کار داعش کے دہشت گردوں کو ختم کر دیں گے ۔
قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے بار ہا امریکہ کی طرف سے عراق اور شام میں تکفیری دہشت گردوں کی مالی ، اطلاعاتی اور فوجی مدد کی تصویریں شایع ہو چکی ہیں ۔
کل یہاں تک کہ النصرہ کے دہشت گرد گروہ نے ایک ویڈیوئی پیغام نشر کر کے شام کی آزاد فوج کو ہتھیار دینے کے سلسلے میں امریکیوں کا شکریہ ادا کیا تھا (یہ وہ دہشت گرد ہیں کہ امریکہ جن کی کھل کر حمایت کرتا ہے ) النصرہ کو تمام فریق ایک دہشت گروہ سمجھتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲